باب:

46 /

۰

تقدیم


 


نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ


                                            مفتی ٔ پاکستان مولانا مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ و نور مرقدہٗ کا نامِ نامی اسمِ گرامی محتاجِ تعارف نہیں ہے۔ مفتی صاحب مرحوم اپنے علم و فضل‘ اپنے تقویٰ اور اپنی بالغ نظری و وسعت ِقلبی کی وجہ سے اہل علم کے تمام مکاتیبِفکر میں محترم و مکرم تو تھے ہی‘ عامۃ الناس میں بھی نہایت ہر دل عزیز اور محبوب تھے۔
                                             مولانا مرحوم کو اللہ تعالیٰ نے تفقہ فی الدین سے مالا مال فرمایا تھا اور ان کے قلب میں اہل سنت کے تمام فقہی مسالک کے متعلق بڑی اعلیٰ ظرفی عطا فرمائی تھی‘ اور مرحوم زبان و قلم سے کوشاں رہے کہ مسلمانوں کی صلاحیتیں اور توانائیاں آپس کے فقہی و فروعی‘اختلافات میں ضائع ہونے کے بجائے وحدتِ اُمت کے تصور کو مستحکم کرنے میں صَرف ہوں۔ اختلافات جائز حدود تک رہیں‘ وہ کسی طور پر بھی مخالفت کی صورت اختیارنہ کریں۔
                                           مولانا مرحوم کو اس امر کا شدت سے احساس تھا کہ اختلافِ رائے جب مخالفت کی صورت اختیار کر لیتا ہے تو وحدتِ اُمت کو شدید صدمہ پہنچتا ہے اور یہ افتراق دنیا میں پوری اُمت کے ذلیل و خوار ہونے کا باعث بنتا ہے۔ مولانا مرحوم پاکستان میں اسلامی نظام کے قیام و نفاذ میں اہل سنت کے مختلف مکاتیب ِ فکر کی مخالفتوں پر انتہائی کڑھتے تھے۔ ان کی پختہ رائے تھی کہ وحدتِ اُمت کی جتنی ضرورت پاکستان کے اہل ِ سنت کو ہے‘

پچھلا صفحہ اگلا صفحہ