باب:

117 /


بسم اللّٰہ الرّحمٰن الرّحیْم


عرضِ ناشر


                 ’’اُمت مسلمہ کی عمر اور مستقبل قریب میں مہدی کے ظہور کا امکان‘‘ کے عنوان سے جامعہ الازہر کے پروفیسر امین محمد جمال الدین کی کتاب کا اردو ترجمہ ماہنامہ میثاق میں بالاقساط شائع کرنے کے بعد اب یکجا کتابی شکل میں پیش کیا جا رہا ہے۔
پیش نظر موضوع مرکزی انجمن کے صدرِ مؤسس اور امیر تنظیم اسلامی ڈاکٹر اسرار احمد 
کی خصوصی دلچسپی کا موضوع ہے۔ چنانچہ وہ گزشتہ سالوں کے دوران متعدد مواقع پر اس موضوع پر اظہارِ خیال فرما چکے ہیں۔ اس ضمن میں محترم ڈاکٹر صاحب کا نقطہ نظر یہ ہے کہ احادیث کے مطالعہ سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس دنیا کا خاتمہ یعنی قیامِ قیامت اب زیادہ دور نہیں ہے۔ احادیث میں بیان کی گئی علاماتِ قیامت میں سے بہت سی علامات‘ جنہیں علاماتِ صغریٰ سے تعبیر کیا جاتا ہے‘ آج ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں‘ جبکہ قیامت کی علاماتِ کبریٰ‘ مثلاً مہدی کی آمد‘ خروجِ دجال‘ نزولِ مسیح‘ المَلحَمۃ العُظمٰی(Armageddon)‘ اور پوری دنیا پر اسلام کا غلبہ‘ ایسی عظیم علامات ہیں کہ"Coming events cast their shadows before"کے مصداق ان کے عکوس و ظلال عالمی حالات و واقعات کے آئینے میں صاف دکھائی دے رہے ہیں اور یوں لگتا ہے گویا اس سب کے لیے سٹیج تیار کیا جا رہا ہے۔
              احادیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ قیامت سے قبل اسلام کے عالمی غلبے یا خلافت علیٰ منہاج النبوۃ کے دورِ ثانی کے ضمن میں ’’خراسان‘‘ کے خطے کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ یہودیوں کے خلاف جنگوں میں حضرت مہدی کی مدد کے لیے فوجیں یہیں سے نکلیں گی۔ واضح رہے کہ احادیث میں جس ’’خراسان ‘‘ کاذکر ہے اسے موجودہ خراسان پر قیاس نہ کیا جائے کہ جو ایران کا ایک چھوٹا سا صوبہ ہے‘ بلکہ آنحضورﷺ کے دور کا خراسان ایک بہت بڑے علاقے پر محیط تھا‘جس میں نہ صرف یہ کہ موجودہ پوراافغانستان بھی شامل تھا بلکہ پاکستان کا شمال مغربی علاقہ بالخصوص موجودہ مالاکنڈ ڈویژن بھی خراسانِ قدیم ہی کا حصہ سمجھا جاتا تھا۔ یہ بات قابل

پچھلا صفحہ اگلا صفحہ