باب:

52 /


پیش لفظ


 


                                      قرضوں کی یہ جنگ جس کی نقاب کشائی زیر نظر کتاب میںکی گئی ہے‘اگرچہ یورپ اور امریکہ میں شروع ہوئی تھی مگر اس وقت پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے ۔ عالمی مالیاتی اداروں کا طریقِ واردات یہ ہے کہ کسی پسماندہ یا ترقی پذیرملک کو قرضوں کی پیشکش کرتے وقت اسے یہ فریب دیاجاتا ہے کہ قرضہ دینے والا ادارہ اس ملک کا دشمن نہیں‘ بلکہ دوست ہے اور اسے ایک خوش حال اور مضبوط ملک دیکھنا چاہتا ہے۔ اور آہستہ آہستہ جب وہ ملک قرضوں کے جال میں پوری طرح پھنس جاتا ہے تو اس کے تمام وسائل اپنے قبضہ میں کر لیے جاتے ہیں۔ اگرکوئی ملک اس جال سے نکل بھاگنے کی کوشش کرے تو اس ملک کے سربراہ کو قتل کروا دیا جاتا ہے‘ اس ملک میں خانہ جنگی کرائی جاتی ہے یا اسے دوسرے کسی ملک کے ساتھ جنگ میں الجھا دیا جاتا ہے‘ وغیرہ ۔ بظاہر یہ بات ناقابل یقین سی نظر آتی ہے ‘ مگر اس کی غالباً بڑی وجہ یہ ہے کہ پیسے کی جو طاقت ہے اس کا ہمیں احساس نہیں ہے ۔اور ہماری نگاہ چونکہ ظاہری واقعات تک محدود ہوتی ہے اس لیے ہم اصل حقائق کے بارے میں لا علم رہتے ہیں۔ گویا یہ باقاعدہ ایک جنگ ہے جو عالمی مالیاتی استعمار کے قیام کے لیے لڑی جا رہی ہے اور اب فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ چنانچہ افریقہ اور ایشیا کے بیشتر ممالک اس جنگ میں زندگی کی بازی ہارتے نظر آتے ہیں۔

پچھلا صفحہ اگلا صفحہ