:

بحیثیت ایک سیاست دان و مدبر، ایک سربراہِ مملکت اور ایک جرنیل کا کردار ادا کرتے نظر آتے ہیں۔ آخر یہ منہج عمل کیسے تبدیل ہوا ہے؟ وہ تحویلی مرحلہ (Transitory Phase) کب آیا اور کیسے آیا؟ اور محمد ﷺ نے نظامِ باطل کے خلاف راست اِقدام کیسے کیا تھا؟
اِقدام کے فیصلے کی اہمیت اور نزاکت
                                             کسی انقلاب کے لیے راست اِقدام (Active Resistance) کا فیصلہ بہت اہم اور نازک (Crucial + Critical) ہوتا ہے۔ اگر راست اِقدام کا فیصلہ قبل از وقت ہو جائے گا تو دنیوی اعتبار سے انقلاب ناکام ہو جائے گا۔ اگر تعداد مُعْتَدبہ (۱) نہیں ہے، اگر تربیت خام رہ گئی ہے تو دنیوی ناکامی کا سامنا ہو گا۔ جیسے کشتہ میں اگر ایک آنچ کی کسر رہ گئی تو بعض اوقات یہی ذرا سی آنچ کی کسر تباہ کن ہو جاتی ہے اوروہ کشتہ مقویٔ جسم و جاں بننے کی بجائے ہلاکت کا باعث بن سکتا ہے۔ اسی طرح اگر تربیت میں خامی اور کمی رہ گئی اور قبل از وقت اِقدام کر دیا گیا تو ناکامی ہو جائے گی، خواہ خلوص و اخلاص کا کتنا ہی ذخیرہ اس جدوجہد کے پیچھے موجود ہو۔ لہذا یہ بڑا نازک لمحہ ہوتا ہے اور اس کے صحیح یا غلط ہونے پر انقلاب کے کامیاب یا ناکام ہونے کا دارومدار ہوتا ہے۔
انبیاء و رُسُل کا خصوصی معاملہ
                                                        جہاں تک جناب محمد رسول اللہ ﷺ اور دیگر انبیاء و رسل علیہم السلام کا معاملہ ہے، یہ فیصلے درحقیقت اللہ کی طرف سے وحی جلی یا وحی خفی کے ذریعے سے ہوتے تھے، یا اگر رسولﷺ اجتہادی طور پر کوئی قدم اُٹھاتے تو اللہ کی طرف سے اس کی تَصْوِیْب (۲) یا اصلاح ہو جاتی تھی۔ لیکن اگر وحی کے ذریعے نہ تصویب ہوئی ہو نہ اصلاح تو گویا رسول ﷺکے اس اجتہادی فیصلہ کو اللہ کی طرف سے خاموش توثیق حاصل ہو گئی۔ لہذا اس معاملہ میں رسول ﷺ تو محفوظ و مامون اور معصوم ہیں… اس ضمن میں حضور ﷺ کی سیرتِ مطہرہ میں ہمیں سفر طائف کی مثال ملتی ہے، جو حضور ﷺ کا ایک اجتہادی فیصلہ تھا۔ ۱۰ نبوی ﷺ میں جب مکہ میں ____________________________ (۱) معقول (۲) منظوری