باب:

5 /


بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ


تقدیماللہ تبارک و تعالیٰ کی سُنّت ہے کہ وہ ہر زمانے میں وقفہ وقفہ سے ایسے رجالِ دین پیدا فرماتا رہتا ہے جو اُس کے دین ِ متین کی حقانیت کو دلائل و براہین اور اپنے حسنِ عمل سے واضح کرتے رہتے ہیں۔ انہی جلیل القدر اشخاص میں سے ایک ہمارے اپنے زمانے کی شخصیت بانی تنظیم اسلامی و صدر مؤسس مرکزی انجمن خدام القرآن محترم ڈاکٹر اسرا راحمد رحمہ اللہ علیہ ہیں‘ جنہیں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمہ جہت صفاتِ عالیہ سے خوب نوازا تھا۔ آپ سچّے اور پکے مؤمن تھے۔ قرآنِ مجید اور احادیث ِشریفہ میں مؤمن کی جن صفاتِ عالیہ کا ذکر کیا گیا ہے وہ قریباً آپؒ کی ذات میں یکجا تھیں۔ مؤمن کی ایک بہت بڑی صفت یہ ہے کہ وہ دوسروں کے لیے بھی وہی پسند کرتا ہے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے ۔ اگر اسی ایک صفت کے بارے میں غور و خوض کیا جائے تو ڈاکٹر اسرار احمدؒ کی ساری زندگی اس صفت سے عبارت ہے۔ آپؒ نے اللہ سبحانہ وتعالیٰ اور اس کے رسول محمد مصطفیٰﷺ کی ذاتِ اَقدس اور ان کی لائی ہوئی شریعت ِمطہرہ کو دل و جان سے قبول کیا او رپھر ان تقاضوں کی ادائیگی کے لیے اپنے جسم و جان کی ساری توانائیاںنچوڑ دیں اور اس پیغام کو چار دانگ ِعالم میں پھیلانے کے لیے قریہ قریہ‘ گائوں گائوں‘ شہر شہر اور ملکوں ملکوںکے دشوار گزار اسفار کو خوش دلی سے اختیار کیا۔
                                                  حق سبحانہ وتعالیٰ نے اپنے خاص فضل و کرم سے آپؒ کے زبان و دل کو دین کی تبلیغ و اشاعت کے لیے کھول دیا تھااور آپ نے اس فضل ِ ربّانی سے خوب استفادہ فرمایا۔ مَیں  نے حضرت عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ‘ مولانا ابوالکلام آزادؒاور نواب بہادر یار جنگؒ جیسے خطباء کودیکھا اور سنا تو نہیں لیکن اپنے اساتذہ و اکابرین سے ان کے بارے میں محیر العقول باتیں سنی اور پڑھی تھیں۔ قریباً ویسے ہی ڈاکٹر صاحبؒ کے محیر العقول خطبات اپنے سر کے

پچھلا صفحہ اگلا صفحہ