باب:

61 /


آیات ۳۳ تا ۴۱



{اِنَّ اللّٰہَ اصۡطَفٰۤی اٰدَمَ وَ نُوۡحًا وَّ اٰلَ اِبۡرٰہِیۡمَ وَ اٰلَ عِمۡرٰنَ عَلَی الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿ۙ۳۳﴾ذُرِّیَّۃًۢ بَعۡضُہَا مِنۡۢ بَعۡضٍ ؕ وَ اللّٰہُ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ ﴿ۚ۳۴﴾اِذۡ قَالَتِ امۡرَاَتُ عِمۡرٰنَ رَبِّ اِنِّیۡ نَذَرۡتُ لَکَ مَا فِیۡ بَطۡنِیۡ مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلۡ مِنِّیۡ ۚ اِنَّکَ اَنۡتَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۳۵﴾فَلَمَّا وَضَعَتۡہَا قَالَتۡ رَبِّ اِنِّیۡ وَضَعۡتُہَاۤ اُنۡثٰی ؕ وَ اللّٰہُ اَعۡلَمُ بِمَا وَضَعَتۡ ؕ وَ لَیۡسَ الذَّکَرُ کَالۡاُنۡثٰی ۚ وَ اِنِّیۡ سَمَّیۡتُہَا مَرۡیَمَ وَ اِنِّیۡۤ اُعِیۡذُہَا بِکَ وَ ذُرِّیَّتَہَا مِنَ الشَّیۡطٰنِ الرَّجِیۡمِ ﴿۳۶﴾فَتَقَبَّلَہَا رَبُّہَا بِقَبُوۡلٍ حَسَنٍ وَّ اَنۡۢبَتَہَا نَبَاتًا حَسَنًا ۙ وَّ کَفَّلَہَا زَکَرِیَّا ۚؕ کُلَّمَا دَخَلَ عَلَیۡہَا زَکَرِیَّا الۡمِحۡرَابَ ۙ وَجَدَ عِنۡدَہَا رِزۡقًا ۚ قَالَ یٰمَرۡیَمُ اَنّٰی لَکِ ہٰذَا ؕ قَالَتۡ ہُوَ مِنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یَرۡزُقُ مَنۡ یَّشَآءُ بِغَیۡرِ حِسَابٍ ﴿۳۷﴾ہُنَالِکَ دَعَا زَکَرِیَّا رَبَّہٗ ۚ قَالَ رَبِّ ہَبۡ لِیۡ مِنۡ لَّدُنۡکَ ذُرِّیَّۃً طَیِّبَۃً ۚ اِنَّکَ سَمِیۡعُ الدُّعَآءِ ﴿۳۸﴾فَنَادَتۡہُ الۡمَلٰٓئِکَۃُ وَ ہُوَ قَآئِمٌ یُّصَلِّیۡ فِی الۡمِحۡرَابِ ۙ اَنَّ اللّٰہَ یُبَشِّرُکَ بِیَحۡیٰی مُصَدِّقًۢا بِکَلِمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ وَ سَیِّدًا وَّ حَصُوۡرًا وَّ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیۡنَ ﴿۳۹﴾قَالَ رَبِّ اَنّٰی یَکُوۡنُ لِیۡ غُلٰمٌ وَّ قَدۡ بَلَغَنِیَ الۡکِبَرُ وَ امۡرَاَتِیۡ عَاقِرٌ ؕ قَالَ کَذٰلِکَ اللّٰہُ یَفۡعَلُ مَا یَشَآءُ ﴿۴۰﴾قَالَ رَبِّ اجۡعَلۡ لِّیۡۤ اٰیَۃً ؕ قَالَ اٰیَتُکَ اَلَّا تُکَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَۃَ اَیَّامٍ اِلَّا رَمۡزًا ؕ وَ اذۡکُرۡ رَّبَّکَ کَثِیۡرًا وَّ سَبِّحۡ بِالۡعَشِیِّ وَ الۡاِبۡکَارِ ﴿٪۴۱﴾}
سورۂ آل عمران کے نصف اوّل کا دوسرا حصہ ۳۱ آیات پر مشتمل ہے۔ اس حصے میں خطاب براہِ راست نصاریٰ سے ہے اور انہیں بتایا گیا ہے کہ یہ جو تم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو معبود بنا لیا ہے اور تثلیث

(Trinity) کا عقیدہ گھڑ لیا ہے یہ سب باطل ہے۔ عیسائیوں کے ہاں دو طرح کی تثلیث رائج رہی ہے ---- ( رضی اللہ عنہما خدا‘ مریم اور عیسیٰ ؑ ---- اور ( رضی اللہ عنہما رضی اللہ عنہماخدا‘ روح القدس اور عیسیٰ ؑ۔یہاں پر واضح کر دیا گیا کہ یہ جو تثلیثیں تم نے ایجاد کر لی ہیں ان کی کوئی بنیاد نہیں ہے‘ یہ تمہاری کج رَوی ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بہت برگزیدہ پیغمبر تھے۔ ہاں اُن کی ولادت معجزانہ طریقے پر ہوئی ہے۔ لیکن ان سے متصلاًقبل حضرت یحییٰ ؑکی ولادت بھی تو معجزانہ ہوئی تھی۔ اور پھر حضرت آدم علیہ السلام کی ولادت بھی تو بہت بڑا معجزہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آدمؑ کو معجزانہ طور پر پیدا کیا اور ان سے نسل انسانی کا آغاز ہوا۔ چنانچہ اگر کسی کی معجزانہ ولادت الوہیت کی دلیل ہے تو کیا حضرت آدم ؑ اور حضرت یحییٰ ؑبھی الٰہ ہیں؟ تو یہ ساری بحث اسی موضوع پر ہو رہی ہے۔
آیت ۳۳ {اِنَّ اللّٰہَ اصۡطَفٰۤی اٰدَمَ وَ نُوۡحًا وَّ اٰلَ اِبۡرٰہِیۡمَ وَ اٰلَ عِمۡرٰنَ عَلَی الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿ۙ۳۳﴾} ’’یقینا اللہ نے ُچن لیا آدم ؑ کو‘ نوحؑ کو‘ آلِ ابراہیم ؑ کو اور آلِ عمران کو تمام جہان والوں پر۔‘‘
اِصطفاء کے معنی منتخب کرنے یا چن لینے
(selection) کے ہیں۔ زیر مطالعہ آیت سے متبادر ہوتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کا بھی ’’اِصطفاء‘‘ ہوا ہے۔ اس میں ان لوگوں کے لیے ایک دلیل موجود ہے جو تخلیق آدم کے ضمن میں یہ نظریہ رکھتے ہیں کہ پہلے ایک نوع (species) وجود میں آئی تھی اور اللہ نے اس نوع کے ایک فرد کو چن کر اس میں اپنی روح پھونکی تو وہ آدم ؑ بن گئے۔ چنانچہ وہ بھی چنیدہ (selected) تھے۔ اِصطفاء کے ایک عام معنی بھی ہوتے ہیں‘ یعنی پسند کر لینا۔ ان معنوں میں آیت کا مفہوم یہ ہو گا کہ اللہ تعالیٰ نے آدمؑ کو اور نوحؑ کو اور ابراہیم ؑکے خاندان کو اور عمران کے خاندان کو تمام جہان والوں پر ترجیح دے کر پسند کر لیا ۔ تاریخ بنی اسرائیل میں ’’عمران ‘‘ دو عظیم شخصیتوں کے نام ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے والد کا نام بھی عمران تھا اور حضرت مریمسلامٌ علیہاکے والد یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نانا کا نام بھی عمران تھا۔ یہاں پر غالباً حضرت موسٰی ؑ کے والد مراد ہیں۔ لیکن آگے چونکہ حضرت مریم ؑ اور حضرت عیسٰی ؑ کا تذکرہ آرہا ہے‘ لہٰذا عین ممکن ہے کہ یہاں پر حضرت مریم ؑ کے والد کی طرف اشارہ ہو۔
آیت۳۴ { ذُرِّیَّۃًۢ بَعۡضُہَا مِنۡۢ بَعۡضٍ ؕ } ’’یہ ایک دوسرے کی اولاد سے ہیں۔‘‘
حضرت نوح علیہ السلام حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد سے ہیں‘ حضرت ابراہیم علیہ السلام حضرت نوحؑ کی اولاد سے ہیں ‘ اور پھر بنی اسماعیل ‘ بنی اسرائیل اور آلِ عمران حضرت ابراہیم ؑکی اولاد میں سے ہیں۔
{وَ اللّٰہُ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ ﴿ۚ۳۴﴾ ’’اور اللہ سننے والا‘ جاننے والا ہے۔‘‘
آیت۳۵ {اِذۡ قَالَتِ امۡرَاَتُ عِمۡرٰنَ رَبِّ اِنِّیۡ نَذَرۡتُ لَکَ مَا فِیۡ بَطۡنِیۡ مُحَرَّرًا } ’’جب کہا عمران کی بیوی نے کہ اے میرے ربّ! جو بچہ میرے پیٹ میں ہے اس کو میں تیری ہی نذر کرتی ہوں‘ ہر ذمہ داری سے چھڑا کر‘‘
عمران کی بیوی یعنی حضرت مریم ؑکی والدہ بہت ہی نیک‘ متقی اور زاہدہ خاتون تھیں۔ جب ان کو حمل ہوا تو انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ عرض کیا کہ پروردگار! جو بچہ میرے پیٹ میں ہے ‘ جسے تو پیدا فرما رہا ہے‘ اسے میں تیری ہی نذر کرتی ہوں۔ ہم اس پر دُنیوی ذمہ داریوں کا کوئی بوجھ نہیں ڈالیں گے اور اس کو خالصتاً ہیکل کی خدمت کے لیے ‘ دین کی خدمت کے لیے ‘ تورات کی خدمت کے لیے وقف کر دیں گے۔ ہم اپنا بھی کوئی بوجھ اس پر نہیں ڈالیں گے۔ انہیں یہ توقع تھی کہ اللہ تعالیٰ بیٹا عطا فرمائے گا۔ مُحَرَّرًا کے معنی ہیں ’’اسے آزاد کرتے ہوئے‘‘۔ یعنی ہماری طرف سے اس پر کوئی ذمہ داری نہیں ہوگی اور اسے ہم تیرے لیے خالص کر دیں گے۔
{فَتَقَبَّلۡ مِنِّیۡ ۚ } ’’پس تو اس کو میری طرف سے قبول فرما!‘‘
اے اللہ تو میری اس نذر کو شرفِ قبول عطا فرما۔
{اِنَّکَ اَنۡتَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۳۵﴾} ’’یقینا تو سب کچھ سننے والا‘ سب کچھ جاننے والا ہے۔‘‘
آیت۳۶ {فَلَمَّا وَضَعَتۡہَا قَالَتۡ رَبِّ اِنِّیۡ وَضَعۡتُہَاۤ اُنۡثٰی ؕ } ’’تو جب اسے وضع حمل ہوا تو اس نے
کہا اے میرے ربّ! یہ تو میں ایک لڑکی جن گئی ہوں۔‘‘
یعنی میرے ہاں تو بیٹی پیدا ہو گئی ہے۔ میں تو سوچ رہی تھی کہ بیٹا پیدا ہو گا تومیں ا س کووقف کر دوں گی۔ اُس وقت تک ہیکل کے خادموں میں کسی لڑکی کو قبول نہیں کیاجاتاتھا۔
{وَ اللّٰہُ اَعۡلَمُ بِمَا وَضَعَتۡ ؕ} ’’اور اللہ بہتر جانتا تھا کہ اس نے کیا جنا ہے۔‘‘
اسے کیا پتا تھا کہ اس نے کیسی بیٹی جنی ہے!
{وَ لَیۡسَ الذَّکَرُ کَالۡاُنۡثٰی ۚ } ’’اور نہیں ہو گا کوئی بیٹا اس بیٹی جیسا!‘‘
اس جملے کے دونوں معنی کیے گئے۔ اوّلاً: اگر یہ قول مانا جائے حضرت مر یم ؑ کی والدہ کا تو ترجمہ یوں ہو گا: ’’اور لڑکا لڑکی کی مانند تو نہیں ہوتا‘‘۔ اگر لڑکا ہوتا تو میں اُسے خدمت کے لیے وقف کر دیتی‘ یہ تو لڑکی ہو گئی ہے۔ ثانیاً: اگر اس قول کو اللہ کی طرف سے مانا جائے تو مفہوم یہ ہو گا کہ کوئی بیٹا ایسا ہو ہی نہیں سکتا جیسی بیٹی تو نے جنم دی ہے۔اور اب مریم ؑ کی والدہ کا کلام شروع ہوا:
{وَ اِنِّیۡ سَمَّیۡتُہَا مَرۡیَمَ} ’’اور میں نے اس کا نام مریم رکھا ہے‘‘
{وَ اِنِّیۡۤ اُعِیۡذُہَا بِکَ وَ ذُرِّیَّتَہَا مِنَ الشَّیۡطٰنِ الرَّجِیۡمِ ﴿۳۶﴾} ’’اور (اے پروردگار!) میںاس کو اور اس کی اولاد کو تیری پناہ میں دیتی ہوں شیطانِ مردود (کے حملوں) سے۔‘‘
اے اللہ! تو اس لڑکی (مریم ؑ) کو بھی اور اس کی آنے والی اولاد کو بھی شیطان کے شر سے اپنی حفاظت میں رکھیو!
آیت۳۷ {فَتَقَبَّلَہَا رَبُّہَا بِقَبُوۡلٍ حَسَنٍ } ’’تو قبول فرما لیا اُس کو (یعنی حضرت مریم ؑ کو) اس کے ربّ نے بڑی ہی عمدگی کے ساتھ‘‘
شرفِ قبول عطا فرمایا بڑے ہی خوبصورت انداز میں۔
{وَّ اَنۡۢبَتَہَا نَبَاتًا حَسَنًا ۙ} ’’اور اس کو پروان چڑھایا بہت اعلیٰ طریقے پر‘‘
{ وَّ کَفَّلَہَا زَکَرِیَّا ۚؕ } ’’اور اس کو زکریاؑ کی کفالت میں دے دیا۔‘‘
حضرت زکریاd ان کے سرپرست مقرر ہوئے اور انہوں نے حضرت مریم ؑ کی کفالت و تربیت کی ذمہ داری اٹھائی۔ حضرت زکریا ؑ حضرت مریم ؑ کے خالو تھے۔ آپؑ وقت کے نبی تھے اور اسرائیلی اصطلاح میں ہیکل سلیمانی کے کاہن ِاعظم
(Chief Priest) بھی تھے۔
{کُلَّمَا دَخَلَ عَلَیۡہَا زَکَرِیَّا الۡمِحۡرَابَ ۙ } ’’جب کبھی بھی زکریاؑ ان کے پاس جاتے تھے محراب‘میں‘‘
{وَجَدَ عِنۡدَہَا رِزۡقًا ۚ} ’’تو ان کے پاس رزق پاتے۔‘‘
’’محراب‘‘ سے مراد وہ گوشہ یا حجرہ ُہے جو حضرت مریم ؑ کے لیے مخصوص کر دیا گیا تھا۔ حضرت زکریاؑ اُن کی دیکھ بھال کے لیے اکثر ان کے حجرے میں جاتے تھے۔ آپؑ جب بھی حجرے میں جاتے تو دیکھتے کہ حضرت مریم ؑ 
کے پاس کھانے پینے کی چیزیں اور بغیر موسم کے پھل موجود ہوتے۔ بعض لوگوں کی رائے اس حوالے سے یہ بھی ہے کہ یہاں رزق سے مراد مادی کھانا نہیں ‘بلکہ علم و حکمت ہے کہ جب حضرت زکریاؑ ان سے بات کرتے تھے تو حیران رہ جاتے تھے کہ اس لڑکی کو اس قدر حکمت اور اتنی معرفت کہاں سے حاصل ہو گئی ہے؟
{قَالَ یٰمَرۡیَمُ اَنّٰی لَکِ ہٰذَا ؕ} ’’وہ پوچھتے اے مریم ؑ! تمہیں یہ چیزیں کہاں سے ملتی ہیں؟‘‘
یہ انواع و اقسام کے کھانے اور بے موسمی پھل تمہارے پاس کہاں سے آجاتے ہیں؟ یا یہ علم و حکمت اور معرفت کی باتیں تمہیں کہاں سے معلوم ہوتی ہیں؟
{قَالَتۡ ہُوَ مِنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ ؕ } ’’ وہ کہتی تھیں کہ یہ سب اللہ کی طرف سے ہے۔‘‘
یہ سب اس کا فضل اور اس کا کرم ہے۔
{اِنَّ اللّٰہَ یَرۡزُقُ مَنۡ یَّشَآءُ بِغَیۡرِ حِسَابٍ ﴿۳۷﴾} ’’یقینا اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے بے حساب عطا کرتا ہے۔‘‘
آیت۳۸ {ہُنَالِکَ دَعَا زَکَرِیَّا رَبَّہٗ ۚ } ’’(حضرت زکریاؑ کو یہ مشاہدہ ہوا تو انہوں نے) اُسی وقت اپنے پروردگار سے ایک دعا کی۔‘‘
{قَالَ رَبِّ ہَبۡ لِیۡ مِنۡ لَّدُنۡکَ ذُرِّیَّۃً طَیِّبَۃً ۚ} ’’انہوں نے کہا: اے میرے ربّ! تو مجھے بھی اپنی جناب سے کوئی پاکیزہ اولاد عطا فرما دے۔‘‘
حضرت زکریا علیہ السلام بہت بوڑھے ہو چکے تھے‘ ان کی اہلیہ بھی بہت بوڑھی ہو چکی تھیں ۔ وہ ساری عمر بانجھ رہی تھیں اور ان کے ہاں کوئی اولاد نہیں ہوئی تھی۔ یہ مضامین سورۂ مریم میں زیادہ تفصیل کے ساتھ بیان ہوئے ہیں۔ مکی دور میں جبکہ مسلمان ہجرتِ حبشہ کے لیے گئے تھے‘ تووہاں جا کر نجاشی کے دربار میں حضرت جعفر ؓ بن ابی طالب نے سورۂ مریم کی آیات پڑھ کر سنائی تھیں۔ حضرت زکریاؑ ساری عمر بے اولاد رہے تھے‘ لیکن حضرت مریم ؑ کے پاس اللہ تعالیٰ کی قدرت کا مشاہدہ کرنے کے بعد اولاد کی جو خواہش ان کے اندر دبی ہوئی تھی وہ چنگاری دفعۃً بھڑک اٹھی۔ انہوں نے عرض کیاکہ اے اللہ! تو اس بچی کو یہ سب کچھ دے سکتا ہے تو اپنی قدرت سے مجھے بھی پاکیزہ اولاد عطا فرما دے!
{اِنَّکَ سَمِیۡعُ الدُّعَآءِ ﴿۳۸﴾} ’’یقینا تو دعا کا سننے والا ہے۔‘‘
آیت ۳۹ {فَنَادَتۡہُ الۡمَلٰٓئِکَۃُ وَ ہُوَ قَآئِمٌ یُّصَلِّیۡ فِی الۡمِحۡرَابِ} ’’تو فرشتوں نے انہیں ندا دی جبکہ وہ اپنے حجرے میں کھڑے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے‘‘
{اَنَّ اللّٰہَ یُبَشِّرُکَ بِیَحۡیٰی} ’’کہ اللہ تعالیٰ تمہیں بشارت دیتا ہے یحییٰ ؑکی‘‘
{مُصَدِّقًۢا بِکَلِمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ} ’’جو تصدیق کرے گا اللہ کی طرف سے ایک کلمہ کی‘‘


{ وَ سَیِّدًا وَّ حَصُوۡرًا وَّ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیۡنَ ﴿۳۹﴾} ’’اور سردار ہو گا اور تجرد کی زندگی گزارے گا اور نبی ہو گا صالحین میں سے۔‘‘
یہاں نوٹ کر لیجیے کہ آخری لفظ جو حضرت یحییٰ علیہ السلام کی مدح کے لیے آیا ہے وہ ’’نبی‘‘ ہے۔اس بارے میں مزید وضاحت آگے آیت ۴۹ کے مطالعہ کے دوران آئے گی۔
آیت ۴۰ {قَالَ رَبِّ اَنّٰی یَکُوۡنُ لِیۡ غُلٰمٌ} ’’(زکریاؑ نے) کہا: پروردگار! میرے ہاں لڑکا کیسے ہوجائے گا؟‘‘
ابھی خود دعا کر رہے تھے‘ لیکن اللہ کی طرف سے بیٹے کی بشارت ملنے پر غالباً اس کی توثیق اور
re-assurance چاہ رہے ہیں کہ میرے ہاں کیسے بیٹا ہو جائے گا؟
{ وَّ قَدۡ بَلَغَنِیَ الۡکِبَرُ} ’’جبکہ میں انتہائی بوڑھا ہو چکا ہوں‘‘
{وَ امۡرَاَتِیۡ عَاقِرٌ ؕ } ’’اور میری بیوی بانجھ رہی ہے۔‘‘
{قَالَ کَذٰلِکَ اللّٰہُ یَفۡعَلُ مَا یَشَآءُ ﴿۴۰﴾} ’’(اللہ نے) فرمایا: اسی طرح اللہ جو چاہتا ہے کرتاہے۔‘‘
اسے اسباب کی احتیاج نہیں ہے۔ اسباب اس کے محتاج ہیں‘ اللہ اسباب کا محتاج نہیں ہے۔
آیت ۴۱ {قَالَ رَبِّ اجۡعَلۡ لِّیۡۤ اٰیَۃً ؕ} ’’انہوںنے عرض کیا: پروردگار! میرے (اطمینان کے) لیے کوئی نشانی مقرر کر دیں۔‘‘
مجھے معلوم ہو جائے کہ واقعی ایسا ہونا ہے اور یہ کلام جو میں سن رہا ہوں واقعتا تیری طرف سے ہے۔
{قَالَ اٰیَتُکَ اَلَّا تُکَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَۃَ اَیَّامٍ اِلَّا رَمۡزًا ؕ} ’’(اللہ نے) فرمایا: تمہارے لیے نشانی یہ ہے کہ اب تم تین دن تک لوگوں سے گفتگو نہیں کر سکو گے سوائے اشارے کنائے کے۔‘‘
یعنی ان کی قوتِ گویائی سلب ہو گئی اور اب وہ تین دن تک کسی سے بات نہیں کر سکتے تھے۔

{وَ اذۡکُرۡ رَّبَّکَ کَثِیۡرًا} ’’اور (اپنے دل میں) اپنے ربّ کو کثرت سے یاد کرتے رہو‘‘
{ وَّ سَبِّحۡ بِالۡعَشِیِّ وَ الۡاِبۡکَارِ ﴿٪۴۱﴾} ’’اور تسبیح کیا کرو شام کے وقت بھی اور صبح کے وقت بھی۔‘‘

پچھلا صفحہ اگلا صفحہ