باب:

59 /


سُورۃُ آلِ عِمران



تمہیدی کلمات


قرآن حکیم کے آغاز میں واقع مکی ّاور مدنی سورتوں کے پہلے گروپ میں مدنی سورتوں کے جو دو جوڑے آئے ہیں‘ ان میں سے پہلے جوڑے کی پہلی سورت یعنی ’’سورۃ البقرۃ‘‘ کے ترجمے اور مختصر تشریح کی ہم تکمیل کر چکے ہیں‘ اور اب ہمیں اس جوڑے کی دوسری سورت ’’آل عمران‘‘ کا مطالعہ کرنا ہے۔واضح رہے کہ دو چیزوں کے مابین جوڑے کا تعلق یا نسبت زوجیت ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ان دونوں چیزوں میں گہری مشابہت بھی ہے لیکن کچھ فرق بھی ہے‘ اور یہ فرق ایک دوسرے کے لیے تکمیلی (complementary) نوعیت کا ہے‘ یعنی ان کے باہم اکٹھے ہونے سے کسی مقصد کی تکمیل ہوتی ہے۔نسبت زوجیت کی اصطلاح کے اس مفہوم کو حیوانات کے جوڑوں کے حوالے سے بخوبی سمجھا جا سکتا ہے۔
سورۃ البقرۃ اور سورۂ آل عمران میں مشابہت کے نمایاں پہلو یہ ہیں کہ یہ دونوں سورتیں حروفِ مقطعات
’’الٓـمّ‘‘ سے شروع ہوتی ہیں۔ دونوں کے آغاز میں قرآن مجید کی عظمت کا بیان ہے‘ پھر یہ کہ دونوں کے اختتام پر بڑی عظیم آیات آئی ہیں۔ سورۃ البقرۃ کی آخری آیت کو قرآن حکیم کی عظیم ترین دعاؤں میں شمار کیا جاسکتا ہے: {رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذۡنَاۤ اِنۡ نَّسِیۡنَاۤ اَوۡ اَخۡطَاۡنَا ۚ …} سورۂ آل عمران کے آخری رکوع میں بھی ایسی ہی ایک نہایت جامع دعا آئی ہے جو تین چار آیتوں میں پھیلی ہوئی ہے۔ پھر جیسے کہ سورۃ البقرۃ کے تعارف میں ذکر ہو چکا ہے ‘ سورۃ البقرۃ سُــورۃُ الاُمَّـتَین ہے‘ یعنی اس میں دو اُمتوں سے خطاب ہے تو یہی معاملہ سورۃ آل عمران کا بھی ہے۔ فرق یہ ہے کہ سورۃ البقرۃ میں زیادہ گفتگو یہود کے بارے میں ہے جبکہ سورۂ آلِ عمران میں زیادہ زور نصاریٰ سے خطاب پر ہے۔ اس طرح اہل کتاب سے گفتگو سے متعلق جس مضمون کا آغاز سورۃ البقرۃ میں ہوا تھا سورۂ آل عمران میں آ کر اس کی تکمیل ہو گئی ہے۔ پھر جیسے سورۃ البقرۃ کے دو تقریباً مساوی حصے ہیں‘ پہلا نصف اٹھارہ رکوعوں اور ۱۵۲ آیات پر مشتمل ہے جبکہ نصف ِثانی ۲۲ رکوعوں اور ۱۳۴ آیات پر مشتمل ہے‘ وہی کیفیت یہاں سورۃ آل عمران میں بھی بتمام و کمال ملتی ہے۔ سورئہ آل عمران کے بھی دو مساوی حصے ہیں۔ اس کے کل ۲۰ رکوع ہیں‘ ۱۰رکوع نصف ِاوّل میں ہیں اور ۱۰ رکوع ہی نصف ِثانی میں۔ پہلے دس رکوعوں میں ۱۰۱ آیات جبکہ دوسرے دس رکوعوں میں ۹۹ آیات ہیں۔ یعنی صرف ایک آیت کا فرق ہے۔ پھر جیسے سورۃ البقرۃ میں نصف ِاوّل کے تین حصے ہیں ویسے ہی سورۂ آل عمران کا نصف اوّل بھی تین حصوں پر مشتمل ہے۔ لیکن تین حصوں کی یہ تقسیم رکوعوں کے اعتبار سے نہیں بلکہ آیات کے اعتبار سے ہے۔ اس سورئہ مبارکہ کی ابتدائی ۳۲ آیات اسی طرحتمہیدی کلام پر مشتمل ہیں جیسے سورۃ البقرۃ کے ابتدائی چار رکوع تمہیدی گفتگو سے متعلق ہیں۔ سورۃ البقرۃ میں روئے سخن ابتدا ہی سے یہود کی طرف ہو گیا ہے‘ جبکہ یہاں روئے سخن ابتدا ہی سے نصاریٰ کی طرف ہے۔
ابتدائی ۳۲ آیات کے بعد کی ۳۱ آیات میں نصاریٰ سے براہِ راست خطاب ہے۔ ان آیات میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت ‘ان کے مقام و مرتبہ اور ان کے خلاف یہودیوں کی سازشوں کے انجام جیسے موضوعات پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس سورئہ مبارکہ کا اکثر و بیشترحصہ ۳ ہجری میں غزوۂ اُحد کے بعد نازل ہوا ہے‘ لیکن ۳۱ آیات پر مشتمل یہ حصہ ۹ ہجری میں وفد نجران کی آمد کے موقع پر نازل ہوا۔ ’’نجران‘‘ عرب کے جنوب میں یمن کی جانب عیسائیوں کی ایک بستی تھی ۔وہاں کے عیسائی سرداراور پادری تقریباً ستر آدمیوں کا ایک وفد لے کر۹ہجری میں رسول اللہﷺ کی دعوت کو سمجھنے کے لیے آپؐ کی خدمت میں مدینہ منورہ حاضر ہوئے۔ وہ لوگ کئی دن مدینہ میں مقیم رہے۔ انہوں نے بات پوری طرح سمجھ بھی لی لیکن حضورﷺ کی نبوت کا اقرار کرنے سے گریزاں رہے۔ اس پر آنحضورﷺ نے انہیں مباہلے کی دعوت دی‘ لیکن وہ اس چیلنج کو قبول کیے بغیر وہاں سے چلے گئے۔ انہوں نے نہ تو رسول اللہﷺ کی دعوت کی شدت کے ساتھ تردید کی اور نہ ہی اسے قبو ل کیا۔ سورۂ آل عمران کی مذکورہ ۳۱ آیات نجران کے ان عیسائیوں سے خطاب کے طور پر نازل ہوئیں۔ ان آیات کے مقابل سورۃ البقرۃ کے رکوع ۳۸ کی وہ آیات بھی ۹ہجری کے لگ بھگ نازل ہوئیں جن میں سود سے متعلق آخری احکام کا ذکر ہے۔گویا مشابہت کا ایک یہ پہلو بھی دونوں سورتوں میں پایا جاتا ہے ۔یعنی سورۃ البقرۃ کا اکثر و بیشتر حصہ اگرچہ غزوۂ بدر سے قبل نازل ہوا‘ لیکن اس کی کچھ آیات ۹ھ میں نازل ہوئیں۔ اسی طرح سورۂ آلِ عمران کا اکثر و بیشتر حصہ اگرچہ غزوۂ اُحد کے بعد ۳ھ میں نازل ہوا ‘لیکن نجران کے عیسائیوں سے خطاب کے ضمن میں اس کی ۳۱ آیات ۹ھ میں نازل ہوئیں۔ پھر جیسے سورۃ البقرۃ کے نصف ِاوّل کے آخری حصے (رکوع ۱۵‘ ۱۶‘ ۱۷‘ ۱۸) میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور خانہ کعبہ کا ذکر ہے بالکل اسی طرح سورۂ آل عمران کے نصف اول کے آخر میں بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام اور خانہ کعبہ کا ذکر ہے۔ سورۂ آل عمران کے اس مقام پر بھی اہل ِکتاب کو اسی انداز میں دعوت دی گئی ہے جیسے سورۃ البقرۃ کے ۱۶ویں رکوع میں دی گئی ہے۔ سورۂ آل عمران کے نصف ِاوّل کا یہ تیسرا حصہ ۳۸ آیات پر مشتمل ہے۔یہ آیات خصوصی طور پر بہت جامع ہیں۔
سورۃ البقرۃ اور سورۂ آل عمران دونوں میں سے ہر ایک کے نصف ِثانی کا آغاز ’’یٰٓــاَیـُّـھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا‘‘ کے الفاظ سے ہوتا ہے۔ جیسے سورۃ البقرۃکے انیسویں رکوع سے نصف ِثانی کا آغاز ہوتا ہے: {یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اسۡتَعِیۡنُوۡا بِالصَّبۡرِ وَ الصَّلٰوۃِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصّٰبِرِیۡنَ ﴿۱۵۳﴾} اسی طرح سورۂ آل عمران کے گیارہویں رکوع سے اس کے نصف ِثانی کا آغاز ہوتا ہے: {یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ حَقَّ تُقٰتِہٖ وَ لَا تَمُوۡتُنَّ اِلَّا وَ اَنۡتُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ ﴿۱۰۲﴾} ۔ سورۂ آل عمران کا نصف ثانی دس رکوعوں پر مشتمل ہے اور ان کی تقسیم عمودی ہے، اُفقی نہیں ہے۔ پہلے دو رکوعوں میں خطاب زیادہ تر مسلمانوں سے ہے، پھر اگرچہ روئے سخن اہل کتاب کی طرف بھی ہے۔ اسے کے بعد مسلسل چھ رکوع غزوۂ اُحد کے حالات پر مشتمل ہیں۔ یعنی اس ضمن میں جو مسائل سامنے آئے ان پر تبصرہ، مسلمانوں سے جو غلطیاں ہوئیں ان پر گرفت اور آئندہ کے لیے ہدایات۔ یہ تقریباً ۶۰ آیات ہیں جو چھ رکوعوں پر پھیلی ہوئی ہیں۔یہ گویا ’’غزوۂ اُحد‘‘ کے عنوان سے قرآن مجید کا ایک مستقل باب (chapter) ہے۔ لیکن قرآن میں اس طرح سے ابواب نہیں بنائے گئے ہیں، بلکہ اس کی سورتیں ہیں۔ جیسا کہ ابتدا میں ’’تعارفِ قرآن‘‘ کے ضمن میں عرض کیا جا چکا ہےـ، قرآن خطباتِ الٰہیہ کا مجموعہ ہے۔ ایک خطبہ نازل ہو رہا ہے اور اسے کے اندر مختلف مضامین بیان ہو رہے ہیں، لیکن ان میں ایک ربط اور ترتیب ہے۔ اب تک اس ربط اور ترتیب پر توجہ کم ہوئی ہے، لیکن اِس دور میں قرآن حکیم کے علم و معرفت کا یہ پہلو زیادہ نمایاں ہوا ہے کہ اس میں بڑا نظم ہے، اس کے اندر تنظیم ہے، اس میں آیات کا آپس میں ربط ہے، سورتوں کا سورتوں سے ربط ہے۔ یہ ایسے ہی بے ربط اور الل ٹپ کلام نہیں ہے۔
اس سورۂ مبارکہ کے آخری دو رکوع بہت اہم ہیں۔ ان میں سے بھی آخری رکوع تو بہت ہی جامع ہے۔ اس میں وہ عظیم دعا بھی آئی ہے جس کا ذکر میں نے ابھی کیا، اور فلسفۂ ایمان کے بارے میں اہم ترین بحث بھی اس مقام پر آئی ہے۔ اور اس سے پہلے کا رکوع یعنی انیسواں رکوع بھی بڑے جامع مضامین پر مشتمل ہے اور اس میں در حقیقت پوری سورۂ مبارکہ کے مضامین کو sum-up کیا گیا ہے۔
ان دونوں سورتوں کے مابین نسبت ِزوجیت اس قدر گہری ہے کہ ایک سورت کی بعض آیات ہوبہو دوسری سورت میں آ گئی ہیں ‘جبکہ بعض آیات کے بیشتر الفاظ دونوں سورتوں میں مشترک ہیں۔ جیسے سورۃ البقرۃ کی آیت۱۳۶ صرف ایک لفظ کی تبدیلی کے ساتھ سورۂ آل عمران میں آیت ۸۴ کے طور پر دہرائی گئی ہے ۔ اسی طرح سورۃ البقرۃ کی آیت ۶۱ اور سورۂ آل عمران کی آیت ۱۱۲ کے الفاظ‘ مضمون اور اسلوب میں گہری مشابہت پائی جاتی ہے۔[قرآن مجید کے ایسے مقامات متشابہ کہلاتے ہیں۔ ان متشابہ مقامات و آیات کو یاد رکھنے کے لیے حفاظ کو بہت مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔]
واضح رہے کہ اس نوعیت کی نسبت (نسبت ِزوجیت) قرآن مجید کی اکثر وبیشتر سورتوں میں پائی جاتی ہے‘ لیکن اس کی پہچان کے لیے گہرے تدبر کی ضرورت ہے۔ بہرحال اس حوالے سے قرآن مجید پر جس قدر فکر و تدبر اور غوروخوض کیا جائے اسی قدر اضافی معانی‘ اضافی علم‘ اضافی معرفت اور اضافی حکمت کے خزانوں کے دروازے کھلتے چلے جاتے ہیں۔
سورۂ آل عمران کا نصف ِثانی دس رکوعوں پر مشتمل ہے اور ان کے مضامین کی تقسیم عمودی ہے‘ اُفقی نہیں ہے۔ پہلے دو‘ رکوعوں میں خطاب زیادہ تر مسلمانوں سے ہے۔ اس کے بعد مسلسل چھ رکوع (۱۶۰آیات) غزوۂ اُحد کے حالات پر تبصرے سے متعلق ہیں۔ یعنی اس ضمن میں جو مسائل سامنے آئے ان پر تبصرہ ‘ مسلمانوں سے جو غلطیاں ہوئیں ان پر گرفت اور آئندہ کے لیے ہدایات ۔ اس سورت کا یہ حصہ گویا ’’غزوۂ اُحد‘‘ کے عنوان سے قرآن مجید کا ایک مستقل باب (chapter) ہے۔ البتہ قرآن میں اس طرح کے ذیلی ابواب نہیں بنائے گئے ہیں‘ بلکہ اس کلام کی تقسیم سورتوں کے عنوانات کے حوالے سے ہے۔ جیساکہ ابتدا میں ’’تعارفِ قرآن‘‘ کے ضمن میں عرض کیا جا چکا ہے‘ قرآن خطباتِ الٰہیہ کا مجموعہ ہے۔ ان خطبات میں مختلف مضامین خاص ربط اور ترتیب سے بیان ہوئے ہیں۔ زمانہ ماضی میں اس ربط اور ترتیب پر بہت کم توجہ دی گئی ‘ لیکن موجودہ دور میں قرآن حکیم کے علم و معرفت کا یہ پہلو نسبتاً زیادہ نمایاں ہوا ہے۔ بہرحال یہ انتہائی منظم اور مربوط کلام ہے ‘اس میں آیات کا آیات کے ساتھ اور سورتوں کا سورتوں کے ساتھ ربط واضح نظر آتا ہے۔
اس سورۂ مبارکہ کے آخری دو رکوع بہت جامع ہیں۔ انیسویں رکوع میں پوری سورۂ مبارکہ کے مضامین کا گویا خلاصہ بیان ہوا ہے‘ جبکہ آخری رکوع فلسفہ ٔایمان کی بحث کے حوالے سے اہم ہے۔ اس رکوع میں وہ عظیم دعا بھی ہے جس کا ذکر ان تعارفی کلمات میں قبل ازیں بھی آ چکا ہے ۔
سورۃ البقرۃ کے تعارف کے دوران اگرچہ سورۃ البقرۃ اور سورۂ آل عمران کے مشترکہ نام کا تذکرہ بھی ہوچکا ہے‘ مگر یہاں یاد دہانی کے طور پر ایک مرتبہ پھر نوٹ کر لیں کہ نبی اکرمﷺ نے ان دونوں سورتوں کو ’’الزَّہْرَاوَین‘‘ کا نام دیا ہے ‘یعنی دو نہایت تابناک اور روشن سورتیں۔ یہ بھی یاد رہے کہ قرآن مجید کی دو آخری سورتوں یعنی سورۃ الفلق اور سورۃ الناس کو اسی طرح ’’المُعَوَّذَتَـیْن‘‘ کا نام دیا گیا ہے اسی طرح قرآن حکیم کے آغاز میں وارد ان دونوں سورتوں کو ’’الزَّہْرَاوَین‘‘ کا نام دیا گیا ہے ۔


اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ



آیات ۱ تا ۹


{الٓمَّٓ ۙ﴿۱﴾اللّٰہُ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ۙ الۡحَیُّ الۡقَیُّوۡمُ ؕ﴿۲﴾نَزَّلَ عَلَیۡکَ الۡکِتٰبَ بِالۡحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیۡنَ یَدَیۡہِ وَ اَنۡزَلَ التَّوۡرٰىۃَ وَ الۡاِنۡجِیۡلَ ۙ﴿۳﴾مِنۡ قَبۡلُ ہُدًی لِّلنَّاسِ وَ اَنۡزَلَ الۡفُرۡقَانَ ۬ؕ اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ لَہُمۡ عَذَابٌ شَدِیۡدٌ ؕ وَ اللّٰہُ عَزِیۡزٌ ذُو انۡتِقَامٍ ﴿۴﴾اِنَّ اللّٰہَ لَا یَخۡفٰی عَلَیۡہِ شَیۡءٌ فِی الۡاَرۡضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ ؕ﴿۵﴾ہُوَ الَّذِیۡ یُصَوِّرُکُمۡ فِی الۡاَرۡحَامِ کَیۡفَ یَشَآءُ ؕ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۶﴾ہُوَ الَّذِیۡۤ اَنۡزَلَ عَلَیۡکَ الۡکِتٰبَ مِنۡہُ اٰیٰتٌ مُّحۡکَمٰتٌ ہُنَّ اُمُّ الۡکِتٰبِ وَ اُخَرُ مُتَشٰبِہٰتٌ ؕ فَاَمَّا الَّذِیۡنَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ زَیۡغٌ فَیَتَّبِعُوۡنَ مَا تَشَابَہَ مِنۡہُ ابۡتِغَآءَ الۡفِتۡنَۃِ وَ ابۡتِغَآءَ تَاۡوِیۡلِہٖ ۚ؃ وَ مَا یَعۡلَمُ تَاۡوِیۡلَہٗۤ اِلَّا اللّٰہُ ۘؔ وَ الرّٰسِخُوۡنَ فِی الۡعِلۡمِ یَقُوۡلُوۡنَ اٰمَنَّا بِہٖ ۙ کُلٌّ مِّنۡ عِنۡدِ رَبِّنَا ۚ وَ مَا یَذَّکَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ ﴿۷﴾رَبَّنَا لَا تُزِغۡ قُلُوۡبَنَا بَعۡدَ اِذۡ ہَدَیۡتَنَا وَ ہَبۡ لَنَا مِنۡ لَّدُنۡکَ رَحۡمَۃً ۚ اِنَّکَ اَنۡتَ الۡوَہَّابُ ﴿۸﴾رَبَّنَاۤ اِنَّکَ جَامِعُ النَّاسِ لِیَوۡمٍ لَّا رَیۡبَ فِیۡہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُخۡلِفُ الۡمِیۡعَادَ ٪﴿۹﴾}
آیت۱
{الٓمَّٓ ۙ﴿۱﴾} ’’ا ۔ ل ۔ م۔‘‘
یہ حروفِ مقطعات ہیں جن کے بارے میں اجمالی گفتگو ہم سورۃ البقرۃ کے آغاز میں کر چکے ہیں۔

آیت۲
{اللّٰہُ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ۙ الۡحَیُّ الۡقَیُّوۡمُ ؕ﴿۲﴾} ’’اللہ وہ معبود برحق ہے جس کے سوا کوئی الٰہ نہیں‘ وہ زندہ ہے ‘ سب کا قائم رکھنے والا ہے۔‘‘
یہ الفاظ سورۃ البقرۃ میں آیت الکرسی کے آغاز میں آ چکے ہیں ۔ ایک حدیث میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ایک اسم ِاعظم ہے‘ جس کے حوالے سے اگر اللہ سے کوئی دعا مانگی جائے تو وہ ضرور قبول ہوتی ہے۔ یہ تین سورتوں البقرۃ‘ آل عمران اور طٰــہٰ میں ہے۔
(۱)
آنحضورﷺ نے تعین ّکے ساتھ نہیں بتایا کہ وہ اسم ِاعظم کون سا ہے ‘ البتہ کچھ اشارے کیے ہیں۔ جیسے رمضان المبارک کی ایک شب ’’لیلۃ القدر‘‘ جو ہزار مہینوں سے افضل ہے‘ اس کے بارے میں تعین کے ساتھ نہیں بتایا کہ وہ کون سی ہے‘ بلکہ فرمایا:
((فَالْـتَمِسُوْھَا فِی الْعَشْرِ الْاَوَاخِرِ فِی الْوِتْرِ)) (۲) ’’اسے آخری عشرے کی ____________________________ (۱) سنن ابن ماجہ‘ کتاب الدعائ‘ باب اسم اللّٰہ الاعظم۔
(۲) صحیح البخاری‘ کتاب صلاۃ التراویح‘ باب التماس لیلۃ القدر فی السبع الاواخر۔ وصحیح مسلم‘ کتاب الصیام‘ باب فضل لیلۃ القدر …


طاق راتوں میں تلاش کرو‘‘۔ تاکہ زیادہ ذوق و شوق کا معاملہ ہو۔ اسی طرح اسم ِاعظم کے بارے میں آپؐ نے اشارات فرمائے ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا کہ یہ تین سورتوں سورۃ البقرۃ‘ سورۂ آل عمران اور سورۂ طٰہٰ میں ہے۔ ان تین سورتوں میں جو الفاظ مشترک ہیں وہ ’’الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ‘‘ ہیں۔ سورۃ البقرۃ میں یہ الفاظ آیت الکرسی میں آئے ہیں‘ سورۂ آل عمران میں یہاں دوسری آیت میں اور سورۃ طٰہٰ کی آیت ۱۱۱ میں موجود ہیں۔
آیت۳ {نَزَّلَ عَلَیۡکَ الۡکِتٰبَ بِالۡحَقِّ} ’’اُس نے نازل فرمائی ہے آپ پر (اے نبیﷺ) یہ کتاب حق کے ساتھ‘‘
اُس اللہ نے جس کے سوا کوئی معبود نہیں‘ جو
الْحَیُّ ہے‘ الْقَیُّوْمُ ہے۔ اس میں اس کلام کی عظمت کی طرف اشارہ ہو رہا ہے کہ جان لو یہ کلام کس کا ہے‘ کس نے اتارا ہے۔ اور یہاں نوٹ کیجیے ‘ لفظ نَزَّلَ آیا ہے‘ اَنْزَلَ نہیں آیا۔
{مُصَدِّقًا لِّمَا بَیۡنَ یَدَیۡہِ} ’’یہ تصدیق کرتے ہوئے آئی ہے اُس کی جو اس کے سامنے موجود ہے‘‘
یعنی تورات اور انجیل کی جو اس سے پہلے نازل ہو چکی ہیں۔ قرآن حکیم سابقہ کتب ِسماویہ کی دو اعتبارات سے تصدیق کرتا ہے۔ ایک یہ کہ وہ اللہ کی کتابیں تھیں جن میں تحریف ہو گئی۔ دوسرے یہ کہ قرآن اور محمد ٌرسول اللہﷺ ان پیشین گوئیوں کا مصداق بن کر آئے ہیں جو اُن کتابوں میں موجود تھیں۔
{وَ اَنۡزَلَ التَّوۡرٰىۃَ وَ الۡاِنۡجِیۡلَ ۙ﴿۳﴾} ’’اور اُس نے تورات اور انجیل نازل فرمائی تھیں۔‘‘
آیت۴ {مِنۡ قَبۡلُ ہُدًی لِّلنَّاسِ} ’’اس سے پہلے لوگوں کی ہدایت کے لیے‘‘
{ وَ اَنۡزَلَ الۡفُرۡقَانَ ۬ؕ} ’’اور اللہ نے فرقان اُتارا۔‘‘
’’فرقان‘‘ کا مصداق قرآن مجید بھی ہے‘ تورات بھی ہے اور معجزات بھی ہیں۔ سورۃ الانفال میں ’’یوم الفرقان‘‘ غزوۂ بدر کے دن کو کہا گیا ہے۔ ہر وہ شے جو حق کو بالکل مبرہن کر دے اور حق و باطل کے مابین امتیاز پیدا کر دے وہ فرقان ہے۔
{اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ لَہُمۡ عَذَابٌ شَدِیۡدٌ ؕ } ’’بے شک جن لوگوں نے اللہ کی آیات کا انکار کیا ان کے لیے سخت عذاب ہے۔‘‘
یہاں اب تہدید اور دھمکی کا انداز ہے کہ اس قرآن کا معاملہ دنیا کی دوسری کتابوں کی طرح نہ سمجھو کہ مان لیا تب بھی کوئی حرج نہیں ‘ نہ مانا تب بھی کوئی حرج نہیں۔ اگر پڑھنے پر طبیعت راغب ہوئی تو بھی کوئی بات نہیں‘ طبیعت راغب نہیں ہے تو مت پڑھو‘ کوئی الزام نہیں۔ یہ کتاب ویسی نہیں ہے‘ بلکہ یہ وہ کتاب ہے کہ جو اس پر ایمان نہیں لائیں گے تو ان کے لیے بہت سخت سزا ہو گی۔
{وَ اللّٰہُ عَزِیۡزٌ ذُو انۡتِقَامٍ ﴿۴﴾} ’’اور اللہ تعالیٰ زبردست ہے‘ انتقام لینے والا ہے۔‘‘
یہ لفظ اس اعتبار سے بہت اہم ہے کہ اللہ تعالیٰ بے شک رؤف ہے‘ رحیم ہے‘ شفیق ہے‘ غفور ہے‘ ستار ہے‘
لیکن ساتھ ہی ’’عزیزٌ ذُوانتِقام‘‘ بھی ہے‘ ’’شدیدُ العِقاب‘‘ بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی یہ دونوں شانیں قلب و ذہن میں رہنی چاہئیں۔
آیت۵ـ {اِنَّ اللّٰہَ لَا یَخۡفٰی عَلَیۡہِ شَیۡءٌ فِی الۡاَرۡضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ ؕ﴿۵﴾} ’’ یقینا اللہ پر کوئی شے بھی مخفی نہیں ہے‘ نہ آسمان میں نہ زمین میں۔‘‘
آیت۶ـ {ہُوَ الَّذِیۡ یُصَوِّرُکُمۡ فِی الۡاَرۡحَامِ کَیۡفَ یَشَآءُ ؕ } ’’وہی ہے جو تمہاری صورت گری کرتا ہے (تمہاری ماؤں کے) رحموں میں جس طرح چاہتا ہے۔‘‘
پہلی چیز اللہ کے علم سے متعلق تھی اور یہ اللہ کی قدرت سے متعلق ہے۔ وہی ہے جو تمہاری نقشہ کشی کر دیتا ہے‘ صورت بنا دیتا ہے تمہاری ماؤں کے رحموں میں جیسے چاہتا ہے۔ کسی کے پاس کوئی اختیار
(choice) نہیں ہے کہ وہ اپنا نقشہ خود بنائے۔
{لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۶﴾} ’’اس کے سوا کوئی معبود نہیں‘ وہ غالب اور حکیم ہے۔‘‘
آیت۷ {ہُوَ الَّذِیۡۤ اَنۡزَلَ عَلَیۡکَ الۡکِتٰبَ } ’’وہی ہے جس نے آپؐ پر یہ کتاب نازل فرمائی‘‘
کسی کسی جگہ
نَزَّلَ کے بجائے اَنْزَلَ کا لفظ بھی آ جاتا ہے‘ اور یہ آہنگ (rhythm) کے اعتبار سے ہوتا ہے‘ کیونکہ قرآن مجید کا اپنا ایک ملکوتی غنا (Divine Music) ہے‘ اس میں اگر آہنگ کے حوالے سے ضرورت ہو تو یہ الفاظ ایک دوسرے کی جگہ آ جاتے ہیں۔
{مِنۡہُ اٰیٰتٌ مُّحۡکَمٰتٌ ہُنَّ اُمُّ الۡکِتٰبِ } ’’اس میں محکم آیات ہیں اور وہی اصل کتاب ہیں‘‘
’’محکم‘‘ اور پختہ آیات وہ ہیں جن کا مفہوم بالکل واضح ہو اور جنہیں اِدھر سے اُدھر کرنے کی کوئی گنجائش نہ ہو۔ اس کتاب کی جڑ‘ بنیاد اور اساس وہی ہیں۔

{وَ اُخَرُ مُتَشٰبِہٰتٌ ؕ } ’’اور کچھ دوسری آیتیں ایسی ہیں جومتشابہ ہیں۔‘‘
جن کا حقیقی اور صحیح صحیح مفہوم معین کرنا بہت مشکل بلکہ عام حالات میں ناممکن ہے۔ اس کی تفصیل تعارفِ قرآن کے ضمن میں عرض کی جا چکی ہے۔ آیاتُ الاحکام جتنی بھی ہیں وہ سب محکم ہیں‘ کہ یہ کرو یہ نہ کرو‘ یہ حلال ہے یہ حرام ! جیسا کہ ہم نے سورۃ البقرۃ میں دیکھا کہ بار بار
’’کُتِبَ عَلَـیْکُمْ‘‘ کے الفاظ آتے رہے ۔ میں عرض کر چکا ہوں کہ کتاب درحقیقت ہے ہی مجموعۂ احکام۔لیکن جن آیات میں اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات کی بحث ہے ان کا فہم آسان نہیں ہے۔اللہ کی ذات و صفات کا ہم کیا تصور کر سکتے ہیں ؟ اللہ کا ہاتھ‘ اللہ کا چہرہ‘ اللہ کی کرسی‘ اللہ کا عرش‘ ان کا ہم کیا تصور کریں گے؟ اسی طرح فرشتے عالم ِغیب کی شے ہیں۔ عالم ِبرزخ کی کیا کیفیت ہے؟ قبر میں کیا ہوتا ہے؟ ہم نہیں سمجھ سکتے۔ عالم ِآخرت‘ جنت اور دوزخ کی اصل حقیقتیں ہم نہیں سمجھ سکتے۔ چنانچہ ہماری ذہنی سطح کے قریب لا کر کچھ باتیں ہمیں بتا دی گئی ہیں کہ مَا لَا یُدْرَکُ کُلُّہٗ لَا یُتْرَکُ کُلُّہٗ (جو چیز پوری کی پوری حاصل نہ ہو سکے اسے پورے کا پورا چھوڑا بھی نہیں جاتا۔) چنانچہ ان کا ایک اجمالی تصور قائم ہو جانا چاہیے‘ اس کے بغیر آدمی کا راستہ سیدھا نہیں رہے گا۔ لیکن ان کی تفاصیل میں نہیں جانا چاہیے۔ دوسرے درجے میں مَیں نے آپ کو بتایا تھا کہ کچھ طبیعیاتی مظاہر (Physical Phenomena) بھی
ایک وقت تک آیاتِ متشابہات میں سے رہے ہیں‘ لیکن جیسے جیسے سائنس کا علم بڑھتا چلا جا رہا ہے‘ رفتہ رفتہ ان کی حقیقت سے پردہ اٹھتا جا رہا ہے اور اب بہت سی چیزیں محکم ہو کر ہمارے سامنے آرہی ہیں ۔ تاہم اب بھی بعض چیزیں ایسی ہیں جن کی حقیقت سے ہم بے خبر ہیں۔ جیسے ہم ابھی تک نہیں جانتے کہ سات آسمان سے مراد کیا ہے؟ ہمارا یقین ہے کہ اِن شاء اللہ وہ وقت آئے گا کہ انسان سمجھ لے گا کہ ہاں یہی بات صحیح تھی اور یہی تعبیر صحیح تھی جو قرآن نے بیان کی تھی۔
{فَاَمَّا الَّذِیۡنَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ زَیۡغٌ فَیَتَّبِعُوۡنَ مَا تَشَابَہَ مِنۡہُ } ’’تو وہ لوگ جن کے دلوں میں کجی ہوتی ہے وہ پیچھے لگتے ہیں ان آیات کے جو ان میں سے متشابہ ہیں ‘‘
{ابۡتِغَآءَ الۡفِتۡنَۃِ } ’’فتنے کی تلاش میں‘‘
وہ چاہتے ہیں کہ کوئی خاص نئی بات نکالی جائے تاکہ اپنی ذہانت اور فطانت کا ڈنکا بجایا جاسکے یا کوئی فتنہ اٹھایا جائے‘ کوئی فساد پیدا کیا جائے۔ جن کا اپنا ذہن ٹیڑھا ہو چکا ہے وہ اس ٹیڑھے ذہن کے لیے قرآن سے کوئی دلیل چاہتے ہیں۔ چنانچہ اب وہ متشابہات کے پیچھے پڑتے ہیں کہ ان میں سے کسی کے مفہوم کو اپنے من پسند مفہوم کی طرف موڑ سکیں۔یہ اس سے فتنہ اٹھانا چاہتے ہیں۔
{وَ ابۡتِغَآءَ تَاۡوِیۡلِہٖ ۚ؃} ’’ اور ان کی حقیقت و ماہیت معلوم کرنے کے لیے۔‘‘
وہ تلاش کرتے ہیں کہ ان آیات کی اصل حقیقت‘ اصل منشا اور اصل مراد کیا ہے۔ یعنی یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کسی کا علمی ذوق ہی ایسا ہو اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایک شخص کی فطرت میں کجی ہو۔
{وَ مَا یَعۡلَمُ تَاۡوِیۡلَہٗۤ اِلَّا اللّٰہُ ۘؔ} ’’حالانکہ ان کا حقیقی مفہوم اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔‘‘
{ وَ الرّٰسِخُوۡنَ فِی الۡعِلۡمِ یَقُوۡلُوۡنَ اٰمَنَّا بِہٖ ۙ کُلٌّ مِّنۡ عِنۡدِ رَبِّنَا ۚ } ’’اور جو لوگ علم میں راسخ ہیں وہ یوں کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اس کتاب پر‘ یہ کل کا کل ُہمارے ربّ کی طرف سے ہے۔‘‘
جن لوگوں کو رسوخ فی العلم حاصل ہو گیا ہے‘ جن کی جڑیں علم میں گہری ہو چکی ہیں ان کا طرزِ عمل یہ ہوتا ہے کہ جو بات صاف سمجھ میں آ گئی ہے اس پر عمل کریں گے اور جو بات پوری طرح سمجھ میں نہیں آ رہی ہے اس کے لیے انتظار کریں گے‘ لیکن یہ اجمالی یقین رکھیں گے کہ یہ اللہ کی کتاب ہے۔
{وَ مَا یَذَّکَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ ﴿۷﴾} ’’اور یہ نصیحت حاصل نہیں کر سکتے مگر وہی جو ہوش مند ہیں۔‘‘
اور سب سے بڑی ہوش مندی یہ ہے کہ انسان اپنی عقل کی حدود
(limitations) کو جان لے کہ میری عقل کہاں تک جا سکتی ہے۔ اگر انسان یہ نہیں جانتا تو پھر وہ اولوالالباب میں سے نہیں ہے ۔ بلاشبہ عقل بڑی شے ہے لیکن اس کی اپنی حدود ہیں۔ ایک حد سے آگے عقل تجاوز نہیں کر سکتی : ؎

گزر جا عقل سے آگے کہ یہ نور
چراغِ راہ ہے منزل نہیں ہے!
یعنی منزل تک پہنچانے والی شے عقل نہیں‘ بلکہ قلب ہے۔ لیکن عقل بہرحال ایک روشنی دیتی ہے‘ حقیقت کی طرفاشارے کرتی ہے۔
آیت۸ {رَبَّنَا لَا تُزِغۡ قُلُوۡبَنَا بَعۡدَ اِذۡ ہَدَیۡتَنَا } ’’(اور ان اولوالالباب کا یہ قول ہوتا ہے) اے ربّ ہمارے ! ہمارے دلوں کو کج نہ ہونے دیجیو اس کے بعد کہ تو نے ہمیں ہدایت دے دی ہے‘‘
{وَ ہَبۡ لَنَا مِنۡ لَّدُنۡکَ رَحۡمَۃً ۚ} ’’اورہمیں تو خاص اپنے خزانۂ فضل سے رحمت عطا فرما۔‘‘
{اِنَّکَ اَنۡتَ الۡوَہَّابُ ﴿۸﴾} ’’یقینا تو ہی سب کچھ دینے والا ہے۔‘‘
ہمیں جو بھی ملے گا تیری ہی بارگاہ سے ملے گا۔تو ہی فیاضِ حقیقی ہے۔
آیت ۹ {رَبَّنَاۤ اِنَّکَ جَامِعُ النَّاسِ لِیَوۡمٍ لَّا رَیۡبَ فِیۡہِ ؕ ’’اے ربّ ہمارے! یقینا تو جمع کرنے والا ہے لوگوں کو ایک ایسے دن کے لیے جس (کے آنے) میں کوئی شک نہیں ہے۔‘‘
{اِنَّ اللّٰہَ لَا یُخۡلِفُ الۡمِیۡعَادَ ٪﴿۹﴾} ’’یقینا اللہ تعالیٰ اس وعدے کے خلاف نہیں کرے گا ۔‘‘
اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا ۔ لہٰذا جو اس نے بتایا ہے وہ ہو کر رہے گا اور قیامت کا دن آ کر رہے گا۔

پچھلا صفحہ اگلا صفحہ