باب:

127 /


 

سُورۃُ قٓ
تمہیدی کلمات


سورۂ قٓ سے مکی مدنی سورتوں کے چھٹے گروپ اور ساتویں (آخری) منزل کا آغاز ایک ساتھ ہو رہا ہے۔ اس اعتبار سے یہ مقام بھی گویا قِران السَّعدین ہے۔ قبل ازیں سورۂ یونس کے آغاز کو بھی میں نے اس لحاظ سے قِران السَّعدین قرار دیاتھا کہ وہاں پر بھی مکی مدنی سورتوں کے نئے گروپ اور نئی منزل کا آغاز ایک ساتھ ہوتا ہے۔ بلکہ وہاں تو سورتوں کے گروپ اور منزل کے اعداد بھی برابر ہیں ۔یعنی سورئہ یونس کے آغاز کے ساتھ مکی مدنی سورتوں کا تیسرا گروپ اور تیسری منزل ایک ساتھ شروع ہو تے ہیں‘جبکہ یہاں پر مکی مدنی سورتوں کے چھٹے گروپ اور ساتویں منزل کا آغاز ایک ساتھ ہوتا ہے ۔
یہاں ضمنی طور پر منازل (احزاب)کی تقسیم کے بارے میں بھی چند اہم نکات نوٹ کر لیجیے ۔اس ضمن میں یاد رکھنے کا پہلا نکتہ یہ ہے کہ یہ تقسیم ہفتے کے سات دنوں کے حساب سے کی گئی ہے تاکہ اگر کوئی شخص ایک ہفتے میں قرآن مجید ختم کرنا چاہے تو وہ ہر روز ایک منزل (حزب)تلاوت کر لے ‘جیسا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے اکثر حضرات نے رات کے نوافل میں تلاوت کا یہی معمول اپنا رکھا تھا۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ تمام منازل میں قرآن کی مقدار بالکل برابر نہیں بلکہ تقریباً برابر ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ منازل خالصتاًسورتوں کے حساب سے بنائی گئی ہیں اور مقدار برابر کرنے کے لیے پاروں کی تقسیم کی طرح سورتوں کو تقسیم نہیں کیاگیا۔ اس حوالے سے تیسری اہم بات یہ ہے کہ منازل کی تقسیم میں سورتوں کی تعداد کے اعتبار سے ایک خاص ’’حسن ِترتیب‘‘ پایا جاتا ہے۔ یعنی پہلی منزل میں تین سورتیں ہیں(اس گنتی میں سورۃ الفاتحہ شامل نہیں کہ وہ قرآن حکیم کے لیے بمنزلہ مقدمہ کے ہے اور سورۃ الحجر کی آیت ۸۹ کی رو سے خود ایک قرآن ہے)‘ دوسری منزل میں پانچ سورتیں‘ تیسری منزل میں سات‘ چوتھی میں نو‘ پانچویں میں گیارہ‘ چھٹی میں تیرہ ‘جب کہ ساتویں منزل میں پینسٹھ سورتیں شامل ہیں(۶۵ کا عدد ۱۳ کا حاصل ضرب ہے)۔ گویا منزل بہ منزل سورتوں کی تعداد میں ایک خاص ’’عددی نسبت‘‘ کارفرما ہے جس کی وجہ سے اعداد کی ایک خوبصورت سیڑھی بنتی نظر آتی ہے۔ اور چوتھا اہم نکتہ یہ کہ ساتویں یا آخری منزل میں چونکہ سورتوں کی تعداد زیادہ ہے اس لیے اس منزل کو ’’حزبِ مفصل‘‘ بھی کہاجاتا ہے۔
مکی مدنی سورتوں کا چھٹا گروپ جس کا آغاز سورۂ قٓ سے ہو رہا ہے ‘ سات مکی (سورئہ قٓتا سورۃ الواقعہ) اور دس مدنی (سورۃ الحدید تا سورۃ التحریم) سورتوں پر مشتمل ہے۔ اس گروپ میں مکی اور مدنی قرآن کا حجم تقریباً برابر ہے۔ یعنی سورۂ قٓ سے لے کر سورۃ الواقعہ تک مکی قرآن کا حجم تقریباً ایک پارے کے برابر ہے ‘جبکہ سورۃ الحدید سے لے کر سورۃ التحریم تک مدنی قرآن تقریباً سوا پارے کے برابر ہے‘اس کے بعد مکی مدنی سورتوں کا ساتواں اور آخری گروپ زیادہ تر مکی قرآن پر مشتمل ہے۔ مکی اور مدنی قرآن کے حجم کے اعتبار سے سورتوں کے پہلے دو گروپس اور آخری دو گروپس میں باہم ایک بہت خوبصورت ’’مناسبت‘‘ پائی جاتی ہے۔ اس مناسبت کو یوں سمجھیں کہ جس طرح پہلا گروپ تقریباً تمام تر مدنی قرآن پر مشتمل ہے (اس میں صرف سورۃ الفاتحہ مکی ہے‘ باقی سورۃ البقرۃ تاسورۃ المائدۃ تقریباً سوا چھ پارے مدنی قرآن ہے) اسی طرح آخری گروپ اکثر و بیشتر مکی قرآن پر مشتمل ہے (اس گروپ میں بالاتفاق تو صرف آخری دو سورتوں یعنی ’’معوذتین‘‘ کو ہی مدنی مانا گیا ہے)۔پھر جس طرح دوسرا گروپ مکی اور مدنی قرآن کے حجم کے اعتبار سے متوازن ہے (اس گروپ میں سورۃ الانعام اور سورۃ الاعراف دو مکی سورتیں ہیں جبکہ سورۃ الانفال اور سورۃ التوبہ دو ہی مدنی سورتیں ہیں) اسی طرح آخری سے پہلا یعنی چھٹا گروپ بھی اس لحاظ سے متوازن ہے کہ اس میں تقریباً ایک پارہ مکی قرآن (سورہ ٔقٓ تا سورۃ الواقعہ) اور تقریباً سوا پارہ مدنی قرآن (سورۃ الحدید تا سورۃ التحریم) ہے۔
چھٹے گروپ کی مکی سورتوں کا ایک امتیاز یہ بھی ہے کہ لسانی اور ادبی محاسن کے اعتبار سے قرآن کا خوبصورت ترین حصہ ان سورتوں پر مشتمل ہے۔ قرآن کا مخصوص صوتی آہنگ جسے میں Divine Music سے تعبیر کرتاہوں‘ان سورتوں میں تیز ردھم کے ساتھ اپنے عروج پر دکھائی دیتا ہے ۔ جبکہ چھوٹی چھوٹی آیات میں خوبصورت الفاظ نگینوں کی طرح چمکتے دمکتے نظر آتے ہیں ۔ ان ہی سورتوں میں سورۃ الرحمن بھی شامل ہے جسے رسول اللہﷺ نے ’’عروس القرآن‘‘ (قرآن کی دلہن) قرار دیا ہے۔ بہرحال فصاحت‘ بلاغت اور ادبی خوبیوں کے اعتبار سے ان سورتوں کو قرآن کے ذروۂ سنام (climax) کا درجہ حاصل ہے۔ ان میں سورئہ قٓ بہت جامع اور اپنے مزاج کے اعتبار سے منفرد سورت ہے ۔ باقی چھ سورتیں باہم جوڑوں کی شکل میں ہیں۔ یعنی سور ۃ الذاریات اور سورۃ الطور کا جوڑا ‘سورۃ النجم اور سورۃ القمر (ان میں چاند اور ستارے کی نسبت بھی ہے) کا جوڑا ‘اور سورۃ الرحمن اور سورۃ الواقعہ کا جوڑا۔
زیر مطالعہ (آخری )منزل کی مکی سورتوں (سورۂ قٓ سے آخر تک) سے متعلق دو باتیں جو قبل ازیں بھی کئی مرتبہ دہرائی جا چکی ہیں یہاں موقع کی مناسبت سے ایک دفعہ پھر سے ذہن میں تازہ کر لیجیے۔پہلی بات یہ کہ یہ تمام سورتیں حضورﷺ کے مکی دور کے ابتدائی چار برسوں میں نازل ہوئی ہیں اور دوسری یہ کہ ان سورتوں کا مرکزی مضمون ’’انذارِ آخرت‘‘ ہے۔ اس حوالے سے یہ نکتہ بھی مدنظر رہنا چاہیے کہ حضورﷺ کو دعوت و تبلیغ کے ضمن میں جو پہلا حکم ملا تھا وہ اِنذار کا تھا۔ سورۃ العلق کی ابتدائی پانچ آیات کے نزول کے ساتھ حضورﷺ کی نبوت کا ظہور ہوا ۔ان آیات میں کوئی حکم نہیں آیا تھا۔ اس کے بعد حضورﷺ کو پہلا حکم سورۃ المدثر کی ان آیات میں دیا گیا : {یٰۤاَیُّہَا الۡمُدَّثِّرُ ۙ﴿۱﴾قُمۡ فَاَنۡذِرۡ ۪ۙ﴿۲﴾}
’’ اے لحاف میں لپٹ کر لیٹنے والے! اب اٹھ کر کھڑے ہو جاؤ اور لوگوں کو خبردار کرو‘‘۔یعنی لوگوں کو یاد دلاؤ کہ ان کی دنیوی زندگی ہی بس اصل زندگی نہیں ہے کہ وہ کھائیں‘ پئیں‘ عیش کریں اور اس دنیا سے چلے جائیں‘ بلکہ انہیں اللہ تعالیٰ نے ایک خاص مقصد کے لیے پیدا کیا ہے۔ اور جس اللہ نے انہیں پید اکیا ہے اسی نے یہ کائنات پیدا کی ہے۔ نہ تو یہ کائنات ہمیشہ رہنے والی ہے اور نہ ہی کسی انسان کی زندگی دائمی ہے۔انسانی زندگی کی مہلت محدود مدت کے لیے ہے۔ ایک وقت آئے گا جب یہ دنیا ختم ہو جائے گی۔ اس کے بعد تمام انسانوں کو دوبارہ زندہ ہو کر اپنے خالق و مالک کے حضور پیش ہونا ہے اور دنیوی زندگی کے حوالے سے ایک بے لاگ محاسبے کا سامنا کرنا ہے۔ اسی محاسبے کے بعد سزا یا جزا کا فیصلہ ہونا ہے۔ اس حوالے سے قرآن حکیم میں اس حقیقت کو بار بار دہرایا گیا ہے کہ جن لوگوں کے دل آخرت سے غافل ہیں ان پر اس ’’اِنذار‘‘ کا کچھ اثر نہیں ہوتا ۔ غالب ؔکا یہ شعر گویا انہی لوگوں کی ذہنی کیفیت کا ترجمان ہے : ؎


جانتا ہوں ثوابِ طاعت و زہد
پر طبیعت اِدھر نہیں آتی!
اسی وجہ سے قرآن میں ’’انذارِآخرت‘‘ پر خصوصی زور دیا گیا ہے اور اسی وجہ سے ’’عقیدۂ آخرت ‘‘ کے لیے صرف ’’ایمان‘‘ کے لفظ کو کافی نہیں سمجھا گیا ۔یعنی جہاں دوسر ے عقائد کے لیے ’’ایمان‘‘ کا مطالبہ ہے وہاں ’’آخرت‘‘ کے لیے عام طور پر یقین (حقیقی ایمان) کا مطالبہ کیا گیا ہے : {وَ بِالۡاٰخِرَۃِ ہُمۡ یُوۡقِنُوۡنَ ؕ﴿۴﴾} (البقرۃ) ۔ عقیدئہ آخرت کی ایک خصوصی اہمیت یہ بھی ہے کہ انسان کی سیرت اور شخصیت کے اندر عملی اعتبار سے حقیقی مثبت تبدیلی اسی عقیدے کی بنا پر آتی ہے۔ بہرحال چھٹے اور ساتویں گروپ یعنی آخری منزل کی مکی سورتوں کا مرکزی مضمون ’’انذارِ آخرت‘‘ ہے۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ ان میں بہت مختصر انداز میں ’’انباء الرسل‘‘ کا تذکرہ بھی ہے اور مکی سورتوں کے عمومی مضامین کی جھلکیاں بھی ۔
اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم



آیات ۱تا ۱۵


{قٓ ۟ۚ وَ الۡقُرۡاٰنِ الۡمَجِیۡدِ ۚ﴿۱﴾بَلۡ عَجِبُوۡۤا اَنۡ جَآءَہُمۡ مُّنۡذِرٌ مِّنۡہُمۡ فَقَالَ الۡکٰفِرُوۡنَ ہٰذَا شَیۡءٌ عَجِیۡبٌ ۚ﴿۲﴾ءَاِذَا مِتۡنَا وَ کُنَّا تُرَابًا ۚ ذٰلِکَ رَجۡعٌۢ بَعِیۡدٌ ﴿۳﴾قَدۡ عَلِمۡنَا مَا تَنۡقُصُ الۡاَرۡضُ مِنۡہُمۡ ۚ وَ عِنۡدَنَا کِتٰبٌ حَفِیۡظٌ ﴿۴﴾بَلۡ کَذَّبُوۡا بِالۡحَقِّ لَمَّا جَآءَہُمۡ فَہُمۡ فِیۡۤ اَمۡرٍ مَّرِیۡجٍ ﴿۵﴾اَفَلَمۡ یَنۡظُرُوۡۤا اِلَی السَّمَآءِ فَوۡقَہُمۡ کَیۡفَ بَنَیۡنٰہَا وَ زَیَّنّٰہَا وَ مَا لَہَا مِنۡ فُرُوۡجٍ ﴿۶﴾وَ الۡاَرۡضَ مَدَدۡنٰہَا وَ اَلۡقَیۡنَا فِیۡہَا رَوَاسِیَ وَ اَنۡۢبَتۡنَا فِیۡہَا مِنۡ کُلِّ زَوۡجٍۭ بَہِیۡجٍ ۙ﴿۷﴾تَبۡصِرَۃً وَّ ذِکۡرٰی لِکُلِّ عَبۡدٍ مُّنِیۡبٍ ﴿۸﴾وَ نَزَّلۡنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً مُّبٰرَکًا فَاَنۡۢبَتۡنَا بِہٖ جَنّٰتٍ وَّ حَبَّ الۡحَصِیۡدِ ۙ﴿۹﴾وَ النَّخۡلَ بٰسِقٰتٍ لَّہَا طَلۡعٌ نَّضِیۡدٌ ﴿ۙ۱۰﴾رِّزۡقًا لِّلۡعِبَادِ ۙ وَ اَحۡیَیۡنَا بِہٖ بَلۡدَۃً مَّیۡتًا ؕ کَذٰلِکَ الۡخُرُوۡجُ ﴿۱۱﴾کَذَّبَتۡ قَبۡلَہُمۡ قَوۡمُ نُوۡحٍ وَّ اَصۡحٰبُ الرَّسِّ وَ ثَمُوۡدُ ﴿ۙ۱۲﴾وَ عَادٌ وَّ فِرۡعَوۡنُ وَ اِخۡوَانُ لُوۡطٍ ﴿ۙ۱۳﴾وَّ اَصۡحٰبُ الۡاَیۡکَۃِ وَ قَوۡمُ تُبَّعٍ ؕ کُلٌّ کَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِیۡدِ ﴿۱۴﴾اَفَعَیِیۡنَا بِالۡخَلۡقِ الۡاَوَّلِ ؕ بَلۡ ہُمۡ فِیۡ لَبۡسٍ مِّنۡ خَلۡقٍ جَدِیۡدٍ ﴿٪۱۵﴾}


آیت ۱ {قٓ ۟ۚ وَ الۡقُرۡاٰنِ الۡمَجِیۡدِ ۚ﴿۱﴾} ’’ق‘ قسم ہے عظیم الشان قرآن کی۔‘‘
قرآن کی تین سورتیں ایسی ہیں جن کے آغاز میں صرف ایک ایک حرفِ مقطعہ ہے۔ ان میں سورۂ قٓ کے علاوہ تیئسویں پارے کی سورۂ صٓ اورانتیسویں پارے کی سورۃ القلم (یا سورۂ نٓ) شامل ہیں۔ بہت سی دوسری سورتوں کے آغاز کی طرح اس سورت کے آغاز میں بھی قرآن مجید کی قسم کا مقسم علیہ محذوف ہے ۔ بہرحال چونکہ سورۂ یٰسٓ کے آغاز میں قرآن حکیم کی قسم کا مقسم علیہ موجود ہے اس لیے اس قسم کا مقسم علیہ بھی وہی ہو گا ‘یعنی
{اِنَّکَ لَمِنَ الۡمُرۡسَلِیۡنَ ۙ﴿۳﴾} (یٰسٓ)۔ چنانچہ اس آیت کا مفہوم یوں ہو گا کہ (اے محمدﷺ) قسم ہے اس عظیم الشان قرآن کی ‘بے شک آپ مرسلین میں سے ہیں۔اس قسم کے فوراً بعد دوسری آیت میں حضورﷺ کا تعارف انذارِ آخرت کے حوالے سے کرایا گیا ہے جو اس سورت کا مرکزی مضمون ہے۔
آیت۲ {بَلۡ عَجِبُوۡۤا اَنۡ جَآءَہُمۡ مُّنۡذِرٌ مِّنۡہُمۡ } ’’بلکہ انہیں بہت عجیب محسوس ہوا ہے کہ ان کے پاس آیا ہے ایک خبردار کرنے والا ان ہی میں سے ‘‘
مُنْذِر کے معنی ہیں انذار کرنے والا‘ خبردار (warn) کرنے والا ۔
{فَقَالَ الۡکٰفِرُوۡنَ ہٰذَا شَیۡءٌ عَجِیۡبٌ ۚ﴿۲﴾} ’’تو کافروں نے کہا یہ تو بڑی عجیب سی بات ہے ۔‘‘
آیت۳ {ءَاِذَا مِتۡنَا وَ کُنَّا تُرَابًا ۚ } ’’کیا جب ہم مر جائیں گے اور مٹی ہو جائیں گے (تو ہم پھر سے زندہ کیے جائیں گے؟)‘‘
{ذٰلِکَ رَجۡعٌۢ بَعِیۡدٌ ﴿۳﴾} ’’یہ لوٹایا جانا توبہت دور کی بات ہے۔‘‘
مر کر مٹی ہو جانے کے بعدہمارا دوبارہ زندہ ہونا بالکل انہونی سی بات ہے ‘ یہ بعید از قیاس دعویٰ کر کے یہ صاحب بہت دُور کی کوڑی لائے ہیں۔
آیت۴ {قَدۡ عَلِمۡنَا مَا تَنۡقُصُ الۡاَرۡضُ مِنۡہُمۡ ۚ } ’’ہم خوب جانتے ہیں کہ زمین ان میں سے کیا چیز کم کرتی ہے۔‘‘
’’ہم‘‘ کے صیغے کے ساتھ یہ شاہانہ اندازِ بیان ہے۔ انسانوں کے دفن ہونے کے بعد زمین ان کے جسموں کے ساتھ کیا معاملہ کرتی ہے‘ ہر انسان کا کون سا عضو کیسے ضائع ہوتا ہے اور پھر ان کے اجزاء کس کس صورت میں کہاں کہاں جاتے ہیں ‘ہمیں ایک ایک چیز کا علم ہے۔

{وَ عِنۡدَنَا کِتٰبٌ حَفِیۡظٌ ﴿۴﴾} ’’اور ہمار ے پاس تو ایک محفوظ رکھنے والی کتاب بھی موجودہے۔‘‘
ہمارے پاس ایک ایک چیز کا ریکارڈ موجود ہے ۔ان کے جسموں کو ہم نے مٹی سے پیدا کیا تھا اور ان کی موت کے بعد ان کے تمام اجزاء کو ہم مٹی میں ہی محفوظ رکھتے ہیں۔ قیامت کے دن اسی مٹی سے ہم انہیں نکال لیں گے :
{مِنۡہَا خَلَقۡنٰکُمۡ وَ فِیۡہَا نُعِیۡدُکُمۡ وَ مِنۡہَا نُخۡرِجُکُمۡ تَارَۃً اُخۡرٰی ﴿۵۵﴾} (طٰہٰ)۔ اس کے علاوہ ان کے ایک ایک عمل کی پوری تفصیل بھی ہم نے لکھ رکھی ہے اور ان کی ارواح بھی ہمارے پاس عِلِّیّین یا سِجِّین میں موجود ہیں ۔غرض ان کی کوئی چیز بھی ہمارے علم یا قبضے سے باہر نہیں ہے۔


آیت۵ {بَلۡ کَذَّبُوۡا بِالۡحَقِّ لَمَّا جَآءَہُمۡ } ’’بلکہ انہوں نے جھٹلا دیا حق کو جب کہ وہ ان کے پاس آیا‘‘
{فَہُمۡ فِیۡۤ اَمۡرٍ مَّرِیۡجٍ ﴿۵﴾}’’سواب وہ ایک بڑی اُلجھن میں مبتلاہو گئے ہیں۔‘‘
ایک طرف تو جواب دہی اور احتساب کی باتیں ماننے کے لیے ان کی طبیعتیں آمادہ نہیں اور دوسری طرف اس بارے میں قرآن کی زبان میں حضورﷺ کے دلائل ایسے قوی ہیں کہ انہیں جھٹلانا ان کے لیے ممکن نہیں۔بس یہی اُلجھن ہے جس میں یہ لوگ پھنس چکے ہیں۔ اس کائنات کی ایک ایک چیز اس حقیقت پر گواہ ہے اور اس کا مربوط و مستحکم نظام بھی زبانِ حال سے پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ اس کا خالق ایک علیم و حکیم ہستی ہے ۔پھر انسان کے اندر پائی جانے والی ’’اخلاقی حس‘‘ بھی اس کے اچھے برے اعمال کے ٹھوس اور حتمی نتائج کا تقاضا کرتی ہے جس کے لیے ایک دوسری زندگی کی ضرورت ہے۔ ان تمام حقائق و شواہد کی موجودگی میں ایک صاحب ِعقل اور ذی شعور انسان کیسے کہہ سکتا ہے کہ یہ کائنات بس ’’رام کی لیلا‘‘ ہے اور انسان کی اس زندگی کے بعد کوئی اور زندگی نہیں ہے۔ چنانچہ منکرین آخرت کے لیے ان حقائق کو تسلیم کیے بغیر چارہ بھی نہیں ‘لیکن ان کی طبیعتیں ہیں کہ احتساب کے لیے تیار بھی نہیں۔ یہ انسان کی وہی نفسیاتی الجھن ہے جس کا ذکر غالب ؔنے اس شعر میں کیا ہے جو میں نے ابھی آپ کو سنایا ہے : ؎

جانتا ہوں ثوابِ طاعت و زہد
پر طبیعت اِدھر نہیں آتی!
ان لوگوں کے قلوب و اذہان میں منفی خیالات و نظریات اس قدر راسخ ہو چکے ہیں کہ اب ان سے پیچھا چھڑانا ان کے لیے ممکن نہیںرہا۔ دراصل انسان اپنے لڑکپن کی عمر میں جن عقائد و نظریات کا اثر قبول کرتا ہے وہ ساری عمر کے لیے اس کی شخصیت کا حصہ بن جاتے ہیں۔ انسان کی اس کمزوری کا نقشہ ایک انگریزی نظم The Cage میں بڑے حقیقت پسندانہ انداز میںدکھایا گیا ہے۔ یہ نظم میں نے اپنے انٹرمیڈیٹ کے زمانے میں پڑھی تھی ۔ اس نظم کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر انسان اپنی ان عادات کے ’’پنجرے‘‘ کا قیدی ہے جنہیں وہ لڑکپن کی عمر میں ایک ایک کرکے اپناتا ہے۔ گویا اس پنجرے کی سلاخیں اپنے لیے وہ خود تیار کرتا ہے۔ بقول شاعر : 
"I built these bars when I was young"
’’ اس پنجرے کی سلاخیں میں نے اس وقت تیار کی تھیں جب میں جوان تھا‘‘۔ جوانی میں انسان کے قویٰ مضبوط ہوتے ہیں ۔اس وقت وہ جو کچھ سیکھتا ہے وہ اس کے ذہن پر نقش کالحجر بن جاتا ہے اور پھر اپنی باقی عمر وہ ان عادات و نظریات کا قیدی بن کر پنجرے میں قید پرندے کی مانند گزار دیتا ہے۔ چنانچہ یہ منکرین آخرت بھی اپنے غلط عقائد و نظریات کے خود ساختہ پنجروں کے قیدی ہیں۔ ان پنجروں کی سلاخیں وہ اس قدر مضبوط کر چکے ہیں کہ اب انہیں توڑ کر باہر نکلنا ان کے لیے ممکن نہیں رہا۔
آیت۶ 
{اَفَلَمۡ یَنۡظُرُوۡۤا اِلَی السَّمَآءِ فَوۡقَہُمۡ کَیۡفَ بَنَیۡنٰہَا وَ زَیَّنّٰہَا وَ مَا لَہَا مِنۡ فُرُوۡجٍ ﴿۶﴾}
 ’’تو کیا انہوں نے دیکھا نہیں آسمان کی طرف جو ان کے اوپر ہے کہ ہم نے اسے کیسے بنایا ہے اور کیسے اسے مزین کیا ہے اور اس میں کہیں کوئی رخنہ نہیں ہے۔‘‘
اس آیت کی کماحقہ ّتشریح تو کوئی ماہر فلکیات ہی کر سکتا ہے ۔ بہرحال آج کا 
انسان خوب جانتا ہے کہ ستاروں‘ سیاروں اور کہکشاؤں کا نظام بہت محکم و مربوط ہے اور یہ کہ اس نظام میں کسی رخنے کا کوئی سوال ہی نہیں ۔
آیت۷ {وَ الۡاَرۡضَ مَدَدۡنٰہَا وَ اَلۡقَیۡنَا فِیۡہَا رَوَاسِیَ } ’’اور زمین کو ہم نے پھیلا دیا ہے اور ہم نے اس میں لنگر ڈال دیے ہیں‘‘
ماہرین طبقات الارض
(Geologists) بھی اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ زمین کی گردش کے دوران اس کا توازن (isostacy) برقرار رکھنے میں پہاڑوں کا انتہائی اہم کردارہے۔
{وَ اَنۡۢبَتۡنَا فِیۡہَا مِنۡ کُلِّ زَوۡجٍۭ بَہِیۡجٍ ۙ﴿۷﴾} ’’اور ہم نے اس میں ہر طرح کی بڑی ہی رونق والی چیزیں (جوڑوں کی شکل میں) پیدا کر دیں۔‘‘
آیت۸ {تَبۡصِرَۃً وَّ ذِکۡرٰی لِکُلِّ عَبۡدٍ مُّنِیۡبٍ ﴿۸﴾} ’’(یہ اللہ کی نشانیاں ہیں) سجھانے اور یاد دہانی کرانے کو ہر اُس بندے کے لیے جو رجوع رکھے ہوئے ہو۔‘‘
عَبْدِ مُنِیْب
سے ایسا بندہ مراد ہے جس کی روح اور فطرت کا رخ اللہ کی طرف ہو ۔مطلب یہ کہ اگر کسی انسان کی فطرت سلیم اور روح زندہ ہو تب ہی یہ ’’بصائر‘‘ اس کے لیے مفید ہوں گے۔ ایسی صورت میں اسے کائنات میں بکھری اللہ کی نشانیاں نظر بھی آئیں گی اور ان نشانیوں سے اس کے دل میں خالق حقیقی کی ’’یاد‘‘ بھی تازہ ہوتی رہے گی۔ لیکن اگر کسی انسان کی فطرت مسخ اور روح مردہ ہو چکی ہو تو اس کا ’’دیکھنا‘‘ اور ’’سننا‘‘ اس کے لیے ہرگز مفید نہیں ہو گا۔
سورۃ الغاشیہ کی ان آیات کا انداز بھی اس حوالے سے بہت بصیرت افروز ہے:

{اَفَلَا یَنۡظُرُوۡنَ اِلَی الۡاِبِلِ کَیۡفَ خُلِقَتۡ ﴿ٝ۱۷﴾وَ اِلَی السَّمَآءِ کَیۡفَ رُفِعَتۡ ﴿ٝ۱۸﴾وَ اِلَی الۡجِبَالِ کَیۡفَ نُصِبَتۡ ﴿ٝ۱۹﴾وَ اِلَی الۡاَرۡضِ کَیۡفَ سُطِحَتۡ ﴿ٝ۲۰﴾}
’’کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں اونٹوں کو کہ کیسے پیدا کیے گئے ہیں ؟اور آسمان کو کہ کیسے بلند کیا گیا ہے؟ اور پہاڑوں کو کہ کیسے گاڑدیے گئے ہیں؟ اور زمین کو کہ کیسے بچھا دی گئی ہے؟‘‘
یعنی پوری کائنات میں جگہ جگہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں موجود ہیں ‘جو انسان کو قدم قدم پر یاد دلاتی ہیں کہ ہر چیز کا خالق اور صورت گر وہی ہے :
{ہُوَ اللّٰہُ الۡخَالِقُ الۡبَارِئُ الۡمُصَوِّرُ لَہُ الۡاَسۡمَآءُ الۡحُسۡنٰی ؕ } (الحشر:۲۴) ’’وہی ہے اللہ‘ پیدا کرنے والا‘ وجود بخشنے والا‘ صورتیں بنانے والا‘ تمام اچھے نام اُسی کے ہیں۔‘‘
اقبال نے ’’آیاتِ خداوندی‘‘کے مشاہدے کی دعوت ان الفاظ میں دی ہے : ؎
کھول آنکھ ‘زمیں دیکھ ‘ فلک دیکھ ‘ فضا دیکھ
مشرق سے اُبھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ!
آیت۹ {وَ نَزَّلۡنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً مُّبٰرَکًا } ’’اور ہم نے آسمان سے اُتارا برکت والا پانی‘‘
لفظ ’’برکت‘‘ میں کسی چیز کی خفتہ صلاحیت کو ترقی دینے کا مفہوم پایاجاتا ہے۔جیسا کہ قبل ازیں بھی متعدد بار وضاحت ہو چکی ہیکہ بارش کاپانی زمین کی قوتِ نمو کو جلا بخشتا ہے اور اس کی روئیدگی کو اجاگر کرنے کاباعث بنتا ہے اور اسی پہلو سے یہ مبارک ہے ۔
{فَاَنۡۢبَتۡنَا بِہٖ جَنّٰتٍ وَّ حَبَّ الۡحَصِیۡدِ ۙ﴿۹﴾} ’’تو ہم نے اُگایا اس کے ذریعے سے باغات کو اور ان فصلوں کو جو کٹ جاتی ہیں۔‘‘ الفاظ کی یہ ترتیب منطقی اور بہت خوبصورت ہے۔ جَنّٰت سے درختوں کے باغات مراد ہیں اور درختوں کو کاٹا نہیں جاتا ‘صرف ان کے پھل اُتارے جاتے ہیں ۔دوسری طرف اناج کی فصل (جیسے گندم کی فصل) پودوں سمیت کاٹ لی جاتی ہے ‘اس لیے اس کے لیے حَبَّ الْحَصِیْدِ کی ترکیب آئی ہے ۔
آیت۱۰ {وَ النَّخۡلَ بٰسِقٰتٍ لَّہَا طَلۡعٌ نَّضِیۡدٌ ﴿ۙ۱۰﴾} ’’اور کھجوروں کے بلند و بالا درخت جن کے خوشے ہیں تہ بر تہ۔‘‘
آیت۱۱ {رِّزۡقًا لِّلۡعِبَادِ ۙ وَ اَحۡیَیۡنَا بِہٖ بَلۡدَۃً مَّیۡتًا ؕ } ’’ یہ سب رزق ہے بندوں کے لیے‘ اور اسی (پانی) سے ہم زندہ کر دیتے ہیں مردہ زمین کو ۔‘‘
{کَذٰلِکَ الۡخُرُوۡجُ ﴿۱۱﴾} ’’اسی طریقے سے نکلنا ہو گا (تمہارا بھی)۔‘‘
جس طرح بارش کے پانی کے باعث خشک اور بنجر زمین سے طرح طرح کی نباتات اُگ آتی ہیں اسی طرح تم بھی ہمارے حکم سے زندہ ہو کر زمین سے نکل آؤ گے۔
آیت۱۲ {کَذَّبَتۡ قَبۡلَہُمۡ قَوۡمُ نُوۡحٍ وَّ اَصۡحٰبُ الرَّسِّ وَ ثَمُوۡدُ ﴿ۙ۱۲﴾} ’’جھٹلایا تھا ان سے پہلے بھی نوحؑ کی قوم نے ‘کنویں والوں نے اور قومِ ثمود نے ۔‘‘
یہ انباء الرسل کا تذکرہ ہے لیکن انتہائی مختصر انداز میں۔
آیت۱۳ {وَ عَادٌ وَّ فِرۡعَوۡنُ وَ اِخۡوَانُ لُوۡطٍ ﴿ۙ۱۳﴾} ’’اور قومِ عاد ‘ فرعون اور لوط ؑکے بھائیوں نے ۔‘‘
آیت۱۴ {وَّ اَصۡحٰبُ الۡاَیۡکَۃِ وَ قَوۡمُ تُبَّعٍ ؕ } ’’اور بن والوں اور قومِ ُتبع ّنے ۔‘‘
بن والوں سے یہاں اہل مدین مراد ہیں جن کی طرف حضرت شعیب علیہ السلام مبعوث ہوئے تھے۔ ’’تبع‘‘ شاہانِ یمن کا لقب تھا۔ قبل ازیں سورۃ الدخان کی آیت ۳۷ میں بھی ہم قومِ تبع کا ذکر پڑھ آئے ہیں۔

{کُلٌّ کَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِیۡدِ ﴿۱۴﴾} ’’ان سب نے رسولوں کو جھٹلایا تو وہ مستحق ہو گئے میری وعید کے۔‘‘
پیغمبروں کو جھٹلا کر وہ لوگ عذاب کی وعیدوں کے مصداق بن گئے۔
آیت۱۵ {اَفَعَیِیۡنَا بِالۡخَلۡقِ الۡاَوَّلِ ؕ } ’’تو کیا ہم پہلی مرتبہ پیدا کر کے عاجز آ گئے ہیں!‘‘
کیا یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہماری تخلیقی صلاحیتیں
(creative potential) اب ختم ہو کر رہ گئی ہیں اور اب ہم انہیں دوبارہ پیدا نہیں کر سکیں گے۔یہی مضمون سورۃ الاحقاف میں اس طرح آیا ہے :
{اَوَ لَمۡ یَرَوۡا اَنَّ اللّٰہَ الَّذِیۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ وَ لَمۡ یَعۡیَ بِخَلۡقِہِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰۤی اَنۡ یُّحۡیَِۧ الۡمَوۡتٰی ؕ بَلٰۤی اِنَّہٗ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۳۳﴾}’’ کیا انہوں نے غور نہیں کیا کہ وہ اللہ جس نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق فرمائی اور ان کی تخلیق سے تھکا نہیں‘وہ اس پر قادر ہے کہ مردوں کو زندہ کر دے!کیوں نہیں‘یقینا وہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘
{بَلۡ ہُمۡ فِیۡ لَبۡسٍ مِّنۡ خَلۡقٍ جَدِیۡدٍ ﴿٪۱۵﴾} ’’بلکہ یہ لوگ شک میں پڑے ہوئے ہیں نئی تخلیق سے متعلق۔‘‘
ہماری خلاقی کی قدرت میں تو کوئی کمی نہیں آئی ‘البتہ یہ لوگ اپنے ذہنوں کی تنگی کی وجہ سے پریشان ہیں اور مبتلائے شک ہیں کہ انہیں مرنے کے بعددوبارہ کیسے زندہ کر لیا جائے گا!

پچھلا صفحہ اگلا صفحہ