ڈاکٹر اسرار احمدؒ کی کتاب و سنت کی روشنی میں لکھی جانے والی تمام کتب کو آسانی سے تلاش کر کے آن لائن مطالعہ کیجیے

کتاب:
باب:
صفحہ نمبر:
بسم اللہ الرحمن الرحیم

پیش لفظ


ربّ ِ کائنات نے انسان کی تخلیق اور اس کےہبوطِ ارضی کے ساتھ ہی اس کی دنیوی و اخروی فوزوفلاح کے لیےراہنمائی کا انتظام بھی فرمادیا تھا۔چنانچہ بنی نوع انسان کا اوّلین فرد پہلا نبی بھی تھاجس نے اپنی اولاد کواپنے خالق ومالک کی بندگی کا درس دیا۔پھراللہ تعالیٰ نےانسانوں ہی میں سےانتخاب کرکےانبیاءورسل کاسلسلہ جاری فرمایاجواپنےابنائےنوع کو اللہ کی بندگی اوردین اسلام کی پیروی کی دعوت دیتے رہے۔ان پیغمبروں پرگاہےبگاہےآسمانی کتب اورصحائف کا نزول بھی ہوتارہا۔لیکن ہر دورمیں ایسا ہوتارہاکہ پیغمبروں کی دعوت کوقبول کرلینے والے لوگ بھی رفتہ رفتہ بگاڑکاشکارہوجاتےاور اپنے پاس موجودآسمانی ہدایت میں من مرضی کی تحریفات کرکےاسےمسخ کردیتے۔بالآخرربّ ِکائنات نےنبی آخرالزماں محمدعربیﷺ کومبعوث فرمایااوران پر اپنا آخری اورتکمیلی پیغام ِہدایت ’’ قرآن حکیم‘‘ کی صورت میں نازل فرمایااورقیامت تک اس کی حفاظت کا انتظام بھی فرمادیا۔ ؎
نوع ِانسان راپیام ِآخریں      حامل او رحمۃٌ للعالمیںﷺ
قرآن حکیم کومحمدرسول اللہﷺکی دعوت و تبلیغ میں مرکزومحورکی حیثیت حاصل تھی اورآپؐ نے اس کی راہنمائی میں نوع ِانسانی کا عظیم ترین انقلاب برپافرمادیا۔
عصر حاضر میں بانی تنظیم اسلا می و مؤسس مرکزی انجمن خدام القرآن لاہورڈاکٹر اسرار احمدؒ پراللہ تعالیٰ کا خصوصی فضل وکرم ہواکہ انھیں اپنی کتاب سےخصوصی تعلق و نسبت عطافرمائی اور آپ نے اپنی پوری زندگی قرآن حکیم کےعلم و حکمت کی نشرواشاعت اوراس کی انقلابی دعوت کوعام کرنے میں صرف کردی۔
پیش نظر کتاب ’’ قرآن حکیم اور ہم‘‘ محترم ڈاکٹر صاحب کی آٹھ کتابوں کو یکجاکرکےتیارکی گئی ہے،جن میں آپ نے قرآن حکیم کاتعارف پیش کیا ہے،قرآن و حدیث کی روشنی میں اس کی عظمت کو اجاگر کیا ہےاورمسلمانوں سےقرآن کےمطالبات اور تقاضےبیان کیے ہیں۔
قرآن حکیم بلاشبہ نوع انسانی کےلیےخالق کائنات کا سب سے بڑاانعام اور سب سے عظیم نعمت ہے۔اس حوالےسےاس کتاب کا آغازمحترم ڈاکٹر صاحب کےایک خطاب’’دنیا کی عظیم ترین نعمت،قرآن حکیم‘‘ سےکیاگیاہےجوآپ نے۲۹/رمضان المبارک ۱۴۲۰ھ کوسمن آباد میں نمازتراویح میں دورۂ ترجمہ قرآن کے ایک پروگرام کی اختتامی تقریب میں فرمایاتھا۔
’’عظمت قرآن‘‘ محترم ڈاکٹر صاحب کےخصوصی دلچسپی کےموضوعات میں سےایک تھااوراس موضوع پر آپ نے متعدد بار اظہارخیال فرمایاتھا۔اس ضمن میں آپ کے دو خطبات شاملِ کتاب
اگلا صفحہ
پچھلا صفحہ