باب:

662 /
درس ۱۶


جہاد فی سبیل اللہ کی غایت ِ اولیٰ
شہادت علی الناس
سورۃ الحج کے آخری رکوع کی روشنی میں
’’طالب و مطلوب‘‘ کی نسبت کے حوالے سے
فلسفہ ٔ دین کی اہم بحث



حقیقت ِ جہاد سے متعلق بعض بنیادی باتوں کی وضاحت پچھلے سبق میں ہو چکی ہے۔ اب ہمیں مطالعۂ قرآن حکیم کے منتخب نصاب کے چوتھے حصے کے پہلے باقاعدہ درس کا آغاز کرنا ہے جو سورۃ الحج کے آخری رکوع پر مشتمل ہے۔ اگرچہ ہمارے اس منتخب نصاب کے اس مرحلے پر جو مضمون زیر بحث ہے اس سے اصلاً اس رکوع کی صرف آخری آیت ہی متعلق ہے‘ لیکن یہ پورا رکوع‘ جوچھ آیات پر مشتمل ہے‘ قرآن مجید کے انتہائی جامع مقامات میں سے ہے۔ اور اس مرحلے پر کوشش یہ ہو گی کہ اختصار کے ساتھ اس پورے رکوع کے مفہوم کو کسی درجے میں بیان کر دیا جائے۔ اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہو گا کہ ہمارے اس منتخب نصاب میں اب تک جتنے مضامین آئے ہیں ان کا ایک مختلف انداز اور اسلوب میں اجمالی اعادہ ہوجائے گا۔

دو تمہیدی باتیں

اس سے پہلے کہ اس رکوع کی آیات کا مطالعہ کیا جائے‘ دو باتوں کی طرف توجہ دلانا ضروری

پچھلا صفحہ اگلا صفحہ